وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کا بوجھ بہت زیادہ ہے ،حکومت اس موذی مرض کے خاتمے کے لئے پُرعزم ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے لئے جاری پائلٹ پراجیکٹ کے حوالے سے ایک اہم جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔
حکومت ہیپاٹائٹس سی کے موذی مرض کے خاتمے کے لئے پُرعزم ہے، سید مصطفیٰ کمال

مزید خبریں
اسلام آباد۔1جون (اے پی پی):وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کا بوجھ بہت زیادہ ہے ،حکومت اس موذی مرض کے خاتمے کے لئے پُرعزم ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے لئے جاری پائلٹ پراجیکٹ کے حوالے سے ایک اہم جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں وفاقی سیکرٹری صحت، مختلف ہسپتالوں کے سربراہان، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ایچ او) اسلام آباد اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران اسلام آباد میں ہیپاٹائٹس سی کی سکریننگ، تشخیص اور علاج کے عمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جبکہ پروگرام کو درپیش چیلنجز اور ان کے حل پر بھی غور کیا گیا۔
اس موقع پر وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کا بوجھ بہت زیادہ ہے اور حکومت اس موذی مرض کے خاتمے کے لئے پُرعزم ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے لئے جاری مؤثر اقدامات میں مزید تیزی لائی جائے اور زیادہ سے زیادہ افراد کی سکریننگ کو یقینی بنایا جائے۔وزیرِ صحت نے کہا کہ عوامی آگاہی مہم کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اپنی بروقت سکریننگ اور ٹیسٹ کرا سکیں۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ہیپاٹائٹس سی کا خاتمہ ایک قومی کاز ہے اور اس مقصد کے حصول کے لئے تمام متعلقہ اداروں کو بھرپور کردار ادا کرنا ہو گا۔
مصطفیٰ کمال نے ہسپتالوں کے سربراہان کو ہدایت کی کہ وہ پروگرام کی کامیابی کے لئے اپنی کوششوں میں مزید تیزی لائیں اور ایسے تمام مریض جن کے ٹیسٹ مثبت آئیں ان کے بروقت اور مکمل علاج کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ احتیاط علاج سے بہتر ہے، اس لئے عوام کو بیماری سے محفوظ رکھنے کے لئے پیشگی اقدامات اور آگاہی نہایت ضروری ہیں۔وفاقی وزیرِ صحت نے اسلام آباد کے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ قریبی سرکاری صحت مراکز اور ہیلتھ فیسلٹیز میں جا کر ہیپاٹائٹس سی کا مفت ٹیسٹ کرائیں۔ انہوں نے کہا کہ اس قومی پروگرام کی کامیابی عوام کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں اور ہر فرد کو اس مہم کا حصہ بننا چاہئے۔








