خطہ اورمشرق وسطیٰ میں کشیدگی اورجنگ کی صورتحال کے تناظر میں مشترکہ لائحہ عمل مرتب کرکے اتفاق رائے سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے،وزیراعظم نے کل سیاسی زعماء کو مدعو کیا ہے، اعظم نذیرتارڑ

اسلام آباد۔3مارچ (اے پی پی):وفاقی وزیرقانون وانصاف اعظم نذیرتارڑ نے کہاہے کہ خطہ اورمشرق وسطیٰ میں کشیدگی اورجنگ کی صورتحال کے تناظر میں مشترکہ لائحہ عمل مرتب کرکے اتفاق رائے سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے،وزیراعظم نے کل سیاسی زعماء کو مدعو کیا ہے۔ منگل کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں مولانافضل الرحمان کے نکتہ اعتراض پروفاقی وزیرنے بتایا کہ وزیراعظم نے خطہ اورمشرق وسطیٰ کی صورتحال کے تناظرمیں کل …

اسلام آباد۔3مارچ (اے پی پی):وفاقی وزیرقانون وانصاف اعظم نذیرتارڑ نے کہاہے کہ خطہ اورمشرق وسطیٰ میں کشیدگی اورجنگ کی صورتحال کے تناظر میں مشترکہ لائحہ عمل مرتب کرکے اتفاق رائے سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے،وزیراعظم نے کل سیاسی زعماء کو مدعو کیا ہے۔

منگل کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں مولانافضل الرحمان کے نکتہ اعتراض پروفاقی وزیرنے بتایا کہ وزیراعظم نے خطہ اورمشرق وسطیٰ کی صورتحال کے تناظرمیں کل سیاسی زعماء کو مدعو کیا ہے اور اس کا مقصد بھی یہی ہے کہ ایک دفعہ مل بیٹھ کر مشترکہ لائحہ عمل طے کیاجائے۔

انہوں نے کہاکہ یہ سنجیدہ معاملہ ہے، خطے میں کشیدگی کی صورتحال ہے، ایران ہماراہمسایہ ہے اوراس کے ساتھ ہمارے دیرینہ تعلقات ہے مگراس کے ساتھ ساتھ سعودی عرب اور دیگرخلیجی ممالک کے ساتھ بھی ہمارے برادرانہ اوردیرینہ تعلقات قائم ہیں، سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کا تعلق مثالی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی معاہدہ بھی موجودہے، اس لئے یہ صورتحال سنجیدگی کامتقاضی ہے ۔

انہوں نے کہاکہ وزیراعظم نے انہیں ذمہ داری سونپی ہے کہ سیاسی زعماء کے ساتھ رابطے استوارکئے جائے اورمل بیٹھ کر اتفاق رائے اورمشاورت سے لائحہ عمل طے کیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ رانا ثنا ء اللہ ذاتی طورپرسیاسی زعماء کو مدعو کر رہے ہیں، مولانا ہمارے بڑے ہیں اورمعاملات کوسمجھتے بھی ہیں، ہمیں امیدہے کہ وہ کل کے اجلاس میں شریک ہوں گے ، کل ساڑھے گیارہ بجے ان کیمرہ اجلاس ہوگا، اس میں جوبھی تجاویز ہوں گی اورجو بھی لائحہ عمل طے ہوگا اس کے مطابق آگے بڑھیں گے۔

 

مزید خبریں