واشنگٹن ۔ 17 جنوری (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ علاقائی اور عالمی سطح پر اس غیریقینی صورتحال میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان مضبوط شراکت داری نہایت ناگزیر ہے۔پاکستان صرف ''امن میں حصہ دار ہے۔'' خطے میں کسی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا۔کشمیر کے بحران کا حل نہ کیاگیا تو اس کا نتیجہ سٹریٹجک صلاحیت رکھنے والے دو ممالک کے درمیان …
خطے میں کسی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا، وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا سینٹر فار سٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز میں پاک امریکہ تعلقات بارے منعقدہ تقریب سے خطاب

مزید خبریں
واشنگٹن ۔ 17 جنوری (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ علاقائی اور عالمی سطح پر اس غیریقینی صورتحال میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان مضبوط شراکت داری نہایت ناگزیر ہے۔پاکستان صرف ”امن میں حصہ دار ہے۔” خطے میں کسی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا۔کشمیر کے بحران کا حل نہ کیاگیا تو اس کا نتیجہ سٹریٹجک صلاحیت رکھنے والے دو ممالک کے درمیان فلیش پوائنٹ کی صورت سامنے آسکتا ہے۔ امریکہ دوری کے موقع پر سینٹر فار سٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز میں پاک امریکہ تعلقات کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ میں ایسے وقت میں امریکہ کے دورے پر ہوں جب علاقائی اور عالمی سطح پر ہمیں بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے، ہمارے مشرق اور مغرب میں اہم تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق اور انسانی بحران مسلسل جاری ہے جہاں گزشتہ 5 ماہ سے 80 لاکھ کشمیری غیرانسانی بندشوں اور قیدوبند کے مصائب کاسامنا کررہے ہیں۔ افغان امن و مفاہمتی عمل اہم مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، اسی دوران ایران اور امریکہ کے درمیان اچانک کشیدگی نے علاقائی وعالمی امن اور معیشت کے لئے خطرات پیدا کردیئے ہیں۔ علاقائی اور عالمی سطح پر اس غیریقینی صورتحال میں ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان ایک مضبوط شراکت داری نہایت اہم ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے انتخاب کا آج بنیادی محور اور موضوع امن اور ترقی کا فروغ ہے۔ وزیر خارجہ نے امریکہ ایران کشیدگی کے حوالے سے کہا کہ پاکستان صرف ”امن میں حصہ دار ہے۔” یہ خطے میں کسی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا۔ پاکستان کے سعودی عرب اور ایران کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ہمارا سعودی عرب کے ساتھ خصوصی تعلق ہے۔ آزمائش کی ہر گھڑی میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہنا ہمارے درمیان ایک دیرینہ روایت رہی ہے۔ جنگ یا فوجی تصادم کے نتیجے میں سلامتی اور معاشی خطرات کا گہرائی سے ادراک کرتے ہوئے پاکستان اول دن سے کشیدگی کے خاتمے اور غلط فہمیوں کو دورکرنے کی کوششوں کا حامی رہا ہے۔ پاکستان ، امریکہ اور ایران کی جانب سے کشیدگی میں کمی کے اشاروں کا خیرمقدم کرتا ہے۔ موجودہ نازک صورتحال میں پوری دنیا کی اولین خواہش امن کے لئے امید ہے۔ افغانستان سے متعلق وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمارے ملک اور خطے میں اس وقت تک حقیقی امن نہیں ہوسکتا جب تک افغان بھائی اور بہنیں افغانستان کے داخلی اور خارجی سطح پر امن سے ہمکنار نہیں ہوتے۔ ہم اس حقیقت سے اس لئے آگاہ ہیں کہ ہمارے لوگوں نے افغان عوام کے ہمراہ اس تکلیف دہ صورتحال کا سامنا کیا ہے۔ واضح رہے کہ افغان مسئلے کا سامنا ہمیں 11 ستمبر2001ء کی صبح سے نہیں بلکہ یہ معاملہ دسمبر1979ء میں افغانستان میں سویت فوج کے پہلے دستے کے داخل ہونے سے شروع ہوا تھا۔ یہ مسئلہ اس وقت شروع ہوا تھا جب پچاس لاکھ افغان مہاجرین پاکستان آئے تھے۔ افغانستان کے اندر عدم استحکام اور تنازعہ سے پاکستان کے لوگ متاثر ہوتے چلے آرہے ہیں۔ اب اس امر کو 40 سال ہوچکے ہیں اور اب یہ سلسلہ جاری ہے۔ میں یہ اضافہ بھی کرنا چاہوں گا کہ نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم نے بے مثال قربانیاں دیں اور سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں سمیت 70 ہزار پاکستانی شہید ہوئے۔ ہماری معیشت کو اس سبب 150 ارب ڈالر کا براہ راست نقصان اٹھانا پڑا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی بالواسطہ قیمت قومی معیشت کے شدید متاثر ہونے کی صورت اٹھائی جس کا کوئی اندازہ ہی نہیں لگایاجاسکتا۔ پاکستان اور امریکہ دونوں نے بہت خون بہایا اور اپنے قیمتی وسائل خرچ کئے ہیں۔ پاکستان طویل عرصہ سے دلیل دیتا آیا ہے کہ افغانستان کا کوئی فوجی حل نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم صدر ٹرمپ کے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہیں جو انہوں نے افغانستان میں سیاسی تصفیہ کے فروغ کے لئے اٹھایا ہے۔افغان امن عمل بشمول امریکہ طالبان مذاکرات میں سہولت کاری کے پاکستان کے مثبت کردار کا عالمی سطح پر اعتراف ہوا ہے۔ آج یہ امید پیدا ہوچکی ہے کہ 2020 افغانستان میں امن کا سال ہوگا۔ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ افغانستان میں امن ایک اجتماعی ذمہ داری ہے۔ پاکستان کردار ادا کررہا ہے اور کرتا رہے گا لیکن تن تنہا وہ سب کچھ نہیں کرسکتا، سب کو مل کر یہ کرنا ہوگا۔ عالمی برادری اور اہم علاقائی کھلاڑیوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں ”شرپسندوں” سے بھی ہوشیار رہنا ہوگا۔ افسوسناک امریہ ہے کہ خطے میں سب کے سب ایسے ممالک نہیں جو افغانستان میں امن دیکھنے کے حق میں ہوں۔ ہم افغانستان میں امن کے لئے مخلصانہ کام کررہے ہیں لیکن ہمیں ”تنازعہ کے بعد” کے مرحلے پر بھی اپنی بھرپورتوجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ تعمیرنو اور پائیدار ترقی کے لئے مستقل عالمی رابطہ کلیدی ہوگا۔ افغانستان میں قیام امن کے بعد معاشی سرگرمیوں سے دونوں اطراف کو فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات نہایت اہم ہیں اور ان کی صلاحیت کا دائرہ اس قدر وسیع ہے جو محض افغانستان کے پہلو تک محدود نہیں ہونا چاہئے۔ افغانستان میں امن سے دونوں جانب بہتری آئے گی اور ہمارے بھرپور تاریخی تعلقات مزید تقویت پائیں گے۔ خطے کی موجودہ صورتحال، امن کے قیام کیلئے ایک مزید بڑا چیلنج بن رہی ہے مقبوضہ کشمیر سے متعلق وزیر خارجہ نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے ہمیشہ ”پرامن ہمسائیگی” کی سوچ کا اظہار کیا ہے۔ جولائی 2018ء میں انتخابات میں کامیابی کے بعد انہوں نے بھارت سے وعدہ کیا کہ ”اگر آپ امن کے لئے ایک قدم اٹھائیں گے تو پاکستان دو قدم اٹھائے گا۔” انہوں نے اپنا وعدہ نبھایا ہے اور تاریخی تناظر میں دونوں ممالک کے درمیان تلخی پر مبنی تعلقات میں بہتری کے لئے متعدد کوششیں کی ہیں۔بدقسمتی سے بھارت نے ہر مثبت قدم کا جواب منفی رویے سے دیا ہے، پاکستان کے تحمل اور وزیراعظم عمران خان کے مدبرانہ روئیے کے سبب جنگ کے دہانے سے دونوں ممالک واپس آئے۔ وزیراعظم نے گرفتار بھارتی پائلٹ واپس کردیا۔ بدقسمتی سے بی جے پی کی حکومت نے امن کے لئے ہماری خواہش اور عزم کو ہماری کمزوری کی علامت سمجھا۔ہمیں امید تھی کہ بھارتی انتخابات کے بعد بی جے پی کی حکومت بلوغت کا مظاہرہ کریگی اس کے برعکس ‘آر ایس ایس’ سوچ کے زیر اثر’ بی جے پی’ حکومت نے بھارت کو "ہندوراشٹرا” میں تبدیل کرنے کے منصوبے پر کام شروع کردیا۔ ”ہندتوا” اور ”اکھنڈبھارت” کے پرچار اور اس پر کاربند ہونے کے تباہ کن نتائج نہ صرف بھارت بلکہ پوری دنیا میں سامنے آرہے ہیں۔








