خواتین دنیا میں امن کے قیام کےلئے اپنے کردار کے ذریعے امید کی کرن بن رہی ہیں، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ۔4دسمبر (اے پی پی):دنیا بھر میں امن کو لاحق خطرات اور تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے کم ہوتے امکانات کے باوجود خواتین دنیا میں امن کے قیام کےلئے اپنے کردار کے ذریعے امید کی کرن بن رہی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار اقوام متحدہ کی انڈر سیکرٹری جنرل برائے سیاسی اور امن سازی کے امور روزمیری ڈی کارلو نے گزشتہ روز سلامتی کونسل کے اجلاس …

اقوام متحدہ۔4دسمبر (اے پی پی):دنیا بھر میں امن کو لاحق خطرات اور تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے کم ہوتے امکانات کے باوجود خواتین دنیا میں امن کے قیام کےلئے اپنے کردار کے ذریعے امید کی کرن بن رہی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار اقوام متحدہ کی انڈر سیکرٹری جنرل برائے سیاسی اور امن سازی کے امور روزمیری ڈی کارلو نے گزشتہ روز سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران کیا۔ وہ خواتین، امن اور سلامتی کے ایجنڈے پر قیادت کی صنفی تبدیلی کی طاقت میں سرمایہ کاری پر بحث کے دوران بات کر رہی تھیں، انہوں نے سلامتی کونسل کے اراکین پر زور دیا کہ نوجوان نسل کے لئے راستے کھولیں۔ان کا کہنا تھا کہ خواتین میں سرمایہ کاری، امن اور سلامتی کے ایجنڈے ،تنازعات کو روکنے اور پائیدار اور جامع امن کے حصول کے ضرورت بن چکی ہے۔

روزمیری ڈی کارلو نے پاکستان سے لڑکیوں کی تعلیم کی چیمپئن اور اب تک کی سب سے کم عمر نوبل امن انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی، سویڈن سے تعلق رکھنے والی ماحولیاتی کارکن گریٹا تھونبرگ اور صومالیہ سے تعلق رکھنے والی الواڈ ایلمن کو نوجوان خواتین کے لئے قابل تقلید قرار دیا جو دنیا میں امن اور انصاف کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ انہوں نے امن کے لیے نئے ایجنڈے پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی پالیسی بریف کی طرف اشارہ کیا جس میں پدرسری نظام کو عدم مساوات کا باعث قرار دیتے ہوئے اسے ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ یہ پالیس بریف عالمی طاقت کے ڈھانچے کو دوبارہ تعمیر کرنے اور خواتین اور لڑکیوں کو کو تنازعات اور عدم تحفظ کی بنیادی وجوہات کو حل کرنے کی ہماری کوششوں میں اہم کردار دینے کی فوری ضرورت پر زور دیتا ہے۔

انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر ہم پدر سری نظام کے اصولوں سے آزاد نہیں ہوئے تو حقیقی امن اور جامع سلامتی ہماری دسترس سے دور رہے گی ۔ ا ن کا کہنا تھا کہ مستقبل کے لئے حال ہی میں اپنایا گیا معاہدہ اس بات کو یقینی بنانے کی اہمیت کو واضح کرتا ہے کہ خواتین کی قیادت اور شرکت کو تنازعات کی روک تھام اور امن کو برقرار رکھنے کے تمام پہلوؤں میں شامل کیا جائے۔روزمیری ڈی کارلو نے خواتین کے قائدانہ کردار کو فروغ دینے کے حوالے سے تین اہم شعبوں ،مکالمے میں سہولت کاری، امن کے جامع عمل کا فروغ اور نوجوان خواتین کی قیادت میں سرمایہ کاری کی نشاندہی کی۔

انہوں نے بین المذاہب مکالمے ،اعتماد سازی اور مشترکہ خواہشات کے اظہار کو بھی اس حوالے سے اہم مواقع قرار دیا اور چاڈ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں اقوام متحدہ کے پیس بلڈنگ فنڈ نے مقامی ڈائیلاگ پلیٹ فارمز کی حمایت کی جو روایتی حکام اور نوجوانوں کی تنظیموں کو مل کر کام کرنے پر آمادہ کرتے ہیں، اس حکمت عملی نے چاڈ میں سماجی ہم آہنگی کو تقویت بخشی اور نیا پینڈ اور برھ سارہ کے علاقوں میں فرقہ وارانہ کشیدگی اور تنازعات کو کم کیا۔

روزمیری ڈی کارلونے ایسے جامع ہمہ جہتی امن عمل کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا جس میں خواتین کے متنوع گروہوں کو ترجیحی کردار دیا گیا ہو ۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی سوڈان میں اقوام متحدہ کا مشن ( یواین ایم آئی ایس ایس )مقامی خواتین اور نوجوانوں کے لیے امن اور سلامتی کےحوالے سے اہم مسائل پر ایک ورکشاپ کا انعقاد کر رہا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ خواتین، امن اور سلامتی پر کونسل کی سالانہ کھلی بحث کے دوران سیکرٹری جنرل نے امن کے عمل میں خواتین کی شرکت کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات پر زور دیا ۔

انہوں نے اس حوالے سے کولمبیا میں 2016 کے امن معاہدے کی توثیق کرنےوالے اقوام متحدہ کے مشن میں خواتین کے اہم کردار کا بھی تذکرہ کیا۔روزمیری ڈی کارلو نے کہا کہ نوجوان خواتین امن سازوں کی مدد کرنے اور ان کے کام کی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے اہم اور پائیدار وسائل ضروری ہیں ، ہماری سرمایہ کاری ان اہداف کے مطابق اور ان سے ہم آہنگ ہو نی چاہیے ۔انہوں نے بتایا کہ صومالیہ میں پیس بلڈنگ فنڈ کے اقدام کے ذریعے نوجوان مردوں اور عورتوں نے قبائلی خطوط پر پانی کی نہروں کے انتظام اور بحالی، تاریخی شکایات پر قابو پانے اور وسائل کی کمی کی وجہ سے پیدا ہونے والے بین القبائل تنازعات کو کم کرنے کے لیے مل کر کام کیا،

اس کے علاوہ خواتین کے بارے میں سلامتی کونسل کی قرارداد 1325 (2000) کی 25 ویں سالگرہ کے طور پر بیجنگ اعلامیہ اور پلیٹ فارم فار ایکشن کی 30 ویں سالگرہ کے موقع پر ہمیں اگلی نسل کے لیے راستے کھولنے چاہئیں اور ہمیں نوجوان خواتین اور خواتین کے حقوق کو اپنی کوششوں کے مرکز میں رکھتے ہوئے قیادت میں ان کے کردار کو بڑھانا چاہیے۔ اس موقع پر سوڈان سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے علمبردار تہانی عباس نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور بتایا کہ ان کے ہاں تنازعات پر ردعمل میں خواتین کے کردار میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔