خواتین پارلیمانی کاکس (ڈبلیو پی سی) کے وفد نے قومی کمیشن برائے حیثیتِ نسواں (این سی ایس ڈبلیو) کا دورہ کیا جہاں قائم مقام چیئرپرسن نیشنل کمیشن برائے حیثیتِ نسواں نورین بانو لہڑی نے وفد کا استقبال کیا۔قائم مقام چیئرپرسن نورین بانو لہڑی نے وفد کو کمیشن کی جاری سرگرمیوں اور ترجیحات پر بریفنگ دی۔
خواتین پارلیمانی کاکس کے وفد کا قومی کمیشن برائے حیثیتِ نسواں کا دورہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔25اگست (اے پی پی):خواتین پارلیمانی کاکس (ڈبلیو پی سی) کے وفد نے قومی کمیشن برائے حیثیتِ نسواں (این سی ایس ڈبلیو) کا دورہ کیا جہاں قائم مقام چیئرپرسن نیشنل کمیشن برائے حیثیتِ نسواں نورین بانو لہڑی نے وفد کا استقبال کیا۔قائم مقام چیئرپرسن نورین بانو لہڑی نے وفد کو کمیشن کی جاری سرگرمیوں اور ترجیحات پر بریفنگ دی۔ بریفنگ میں این سی ایس ڈبلیو سٹریٹجک پلان 2026-2029، نیشنل جینڈر پیریٹی ڈیش بورڈ، خواتین کے حقوق سے متعلق دو لسانی آگاہی مواد اور کمیشن میں زیر التوا تقرریوں کے دیرینہ مسئلے سمیت دیگر امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔خواتین پارلیمانی کاکس کی سیکرٹری ڈاکٹر شاہدہ رحمانی نے خواتین کے حقوق اور صنفی مساوات کے فروغ کے لیے نیشنل کمیشن برائے حیثیتِ نسواں کی کاوشوں کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ قوانین اور پالیسیوں کو محض قانون سازی تک محدود رکھنے کے بجائے ان پر نچلی سطح تک مؤثر عملدرآمد یقینی بنانا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ خواتین پارلیمانی کاکس کی مشترکہ ترجیح یہ ہونی چاہئے کہ قوانین، پالیسیوں اور پروگرامز کا فائدہ بالخصوص محروم، پسماندہ اور کمزور خواتین تک پہنچے۔ڈاکٹر شاہدہ رحمانی نے نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کی ملازمہ اور قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں ڈیپوٹیشن پر تعینات حنا جاوید کے حالیہ بہیمانہ قتل کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے خلاف کسی بھی قسم کے تشدد کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔سیکرٹری خواتین پارلیمانی کاکس نے کہا کہ ڈبلیو پی سی حنا جاوید کے لئے انصاف کے حصول اور واقعہ کی آزاد، منصفانہ، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لئے اپنا کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کمیشن برائے حیثیتِ نسواں کو بھی اس معاملے میں ساتھ لیا جا رہا ہے تاکہ تمام متعلقہ ادارہ جاتی طریقہ کار بروئے کار لاتے ہوئے تحقیقات میں شفافیت یقینی بنائی جا سکے اور قتل کے ذمہ دار تمام افراد کو قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
وفد کے ارکان نے نیشنل کمیشن برائے حیثیتِ نسواں اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے ) کے درمیان مزید مؤثر رابطہ اور تعاون کی ضرورت پر زور دیا تاکہ موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات سے خواتین پر پڑنے والے غیر متناسب اثرات کا مؤثر انداز میں تدارک کیا جا سکے۔اس موقع پر مطالبہ کیا گیا کہ آفات سے نمٹنے کی تیاری، امداد، بحالی اور تعمیرِ نو کے پروگرامز میں خواتین کی مخصوص ضروریات کو شامل کیا جائے۔ شرکاء نے قانون سازی، پالیسی سازی، بجٹ سازی اور نگرانی کے لئے درست، جامع اور صنفی بنیادوں پر تقسیم شدہ اعداد و شمار کی دستیابی کو بھی ناگزیر قرار دیا۔وفد نے بالخصوص دیہی خواتین کے لئے تعلیم، صحت، انصاف، معاشی مواقع اور اپنے حقوق سے متعلق معلومات تک رسائی بہتر بنانے کے لئے خصوصی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔
خواتین پارلیمانی کاکس کے ارکان نے تجویز دی کہ خواتین کے حقوق اور صنفی مساوات سے متعلق آگاہی کو پرائمری سطح کے نصاب میں شامل کیا جائے جبکہ شادی کے موقع پر نکاح نامہ کے ذریعے خواتین کو ان کے قانونی حقوق اور تحفظات سے آگاہ کرنے کے نظام کو بھی مزید مؤثر بنایا جائے۔قائم مقام چیئرپرسن نیشنل کمیشن برائے حیثیتِ نسواں نورین بانو لہڑی نے خواتین پارلیمانی کاکس کی جانب سے ادارے کے ساتھ رابطے اور تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے ادارہ جاتی رابطہ، قابلِ اعتماد صنفی اعداد و شمار، احتساب اور قوانین پر مؤثر عملدرآمد بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
وفد کے ارکان نے نیشنل کمیشن برائے حیثیتِ نسواں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خواتین کی زندگیوں میں بامعنی بہتری کے لیے قانون سازی کے ساتھ ساتھ آگاہی، قابلِ اعتماد ڈیٹا، ادارہ جاتی تعاون اور مؤثر عملدرآمد کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔وفد میں اراکین قومی اسمبلی صوفیہ سعید شاہ، ہما اختر چغتائی، زہرہ ودود فاطمی، نعیمہ کشور خان، تمکین اختر نیازی، ماہ جبین عباسی، نیلم، آسیہ ناز تنولی اور اختر بی بی شامل تھیں۔








