خواتین کو بااختیار بنانے کے پروگراموں میں ان کی گھریلو اور نگہداشت کی ذمہ داریوں کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے،مقررین

ماہرین نے خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کے لیے ہنرمندی کی تربیت کو روزگار کے مواقع، مارکیٹ تک رسائی اور مالی معاونت سے منسلک کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین کی معاشی شمولیت بڑھانے کے لیے کام کی جگہوں پر تحفظ، متعلقہ شعبوں میں مہارتوں کی فراہمی اور کاروباری سرمائے تک رسائی یقینی بنانا ہوگی۔

اسلام آباد۔7نومبر (اے پی پی):ماہرین نے خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کے لیے ہنرمندی کی تربیت کو روزگار کے مواقع، مارکیٹ تک رسائی اور مالی معاونت سے منسلک کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین کی معاشی شمولیت بڑھانے کے لیے کام کی جگہوں پر تحفظ، متعلقہ شعبوں میں مہارتوں کی فراہمی اور کاروباری سرمائے تک رسائی یقینی بنانا ہوگی۔یہ بات پائیدار ترقیاتی پالیسی ادارے (ایس ڈی پی آئی) کے زیر اہتمام 29ویں پائیدار ترقیاتی کانفرنس کےدوران خواتین کی مہارتوں اور ذریعہ معاش سے متعلق سیشن میں کہی گئی جس کی صدارت رکن قومی اسمبلی شائستہ پرویز ملک نے کی۔

مقررین نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانے کے پروگراموں میں ان کی گھریلو اور نگہداشت کی ذمہ داریوں کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے۔لوریئل پاکستان کے ایگزیکٹو جنرل منیجر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ریحان سعید نے کہا کہ پاکستان کی تقریباً نصف آبادی خواتین پر مشتمل ہےتاہم افرادی قوت میں ان کی شمولیت کی شرح تقریباً 24 فیصد ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہنرمندی کےپروگرام اس وقت زیادہ مؤثر ثابت ہوتے ہیں جب انہیں روزگار، رہنمائی اور کاروباری معاونت سے منسلک کیا جائے۔پنجاب کی محتسب برائے خواتین ڈاکٹر نجمہ افضل نے لوریئل کے پیشہ ورانہ بیوٹی اسکلز، ڈیجیٹل اور مالیاتی خواندگی اور سڑکوں پر ہراسانی کی روک تھام سے متعلق اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ کام کی جگہوں پر ہراسانی کے قوانین پر مؤثر عملدرآمد اور شکایات کے ازالے کے قابل اعتماد نظام کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

صحت عامہ اور صنفی انصاف کی ماہر ڈاکٹر رخشندہ پروین نے کہا کہ خواتین کی افرادی قوت میں شمولیت کی راہ میں حائل قانونی، ادارہ جاتی، سماجی اور معاشی رکاوٹوں کو دور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کی ڈپٹی ریذیڈنٹ نمائندہ وان نگوین نے ویتنام کے ایک کامیاب اقدام کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ وہاں 100 کوآپریٹوز کے ذریعےخواتین کے چھوٹےکاروباروں کو ڈیجیٹل سہولیات، منڈیوں اور رہنمائی سے منسلک کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کا مقصد انہیں مالی تحفظ، انتخاب اور اپنی آمدن پر اختیار فراہم کرنا ہونا چاہیے۔پنجاب سوشل پروٹیکشن اتھارٹی کی سابق وائس چیئرپرسن جہان آرا منظور وٹو نے ’خود مختار‘ پروگرام کو نچلی سطح پر معاونت کی مثال قرار دیتے ہوئے بتایا کہ اس پروگرام کے تحت نوجوان شادی شدہ جوڑوں کو مویشی، آلات یا کاروباری سامان کی صورت میں ڈیڑھ لاکھ روپے تک کے پیداواری اثاثے فراہم کیے جاتے ہیں۔

 

مزید خبریں