وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کا ریاستی اداروں کے خلاف بیان پر ردعمل، سیاسی قیادت کو ریڈ لائنز کے اندر رہنے کا مشورہ

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ سیاسی قیادت کے الفاظ اور لب و لہجے سے اس کی پالیسی کا اندازہ ہوتا ہے، ریاست اور ریاستی اداروں کے حوالے سے گفتگو کی کچھ ریڈ لائنز ہیں جنہیں عبور نہیں کرنا چاہیے، ذاتی یا جماعتی تنقید خندہ پیشانی سے برداشت کرتے ہیں تاہم ریاست اور اداروں کے خلاف بیان پر موقف دیا جائے گا۔ہفتہ کو …

اسلام آباد۔7نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ سیاسی قیادت کے الفاظ اور لب و لہجے سے اس کی پالیسی کا اندازہ ہوتا ہے، ریاست اور ریاستی اداروں کے حوالے سے گفتگو کی کچھ ریڈ لائنز ہیں جنہیں عبور نہیں کرنا چاہیے، ذاتی یا جماعتی تنقید خندہ پیشانی سے برداشت کرتے ہیں تاہم ریاست اور اداروں کے خلاف بیان پر موقف دیا جائے گا۔ہفتہ کو ایکس پر پوسٹ کرتےہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ ملک کو جوڑنے اور تمام صوبوں اور سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کے بیان پر اتحادی جماعتوں کے درمیان بیٹھ کر بات چیت ہوتی ہے، پیپلز پارٹی کے ساتھ اختلافات مذاکرات کے ذریعے حل کرکے تعلقات معمول پر لائے گئے اور قانون سازی کا عمل بھی آگے بڑھایا گیا،نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کا معاملہ تاحال کابینہ یا مسلم لیگ (ن) میں زیر بحث نہیں آیا، اس حوالے سے کوئی بھی فیصلہ ملکی مفاد کو مدنظر رکھ کر ہونا چاہیے۔ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی صحت اور حفاظت کو حکومت کی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ اس معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

بانی پی ٹی آئی کو عدالتی حکم سے قبل بھی چھ مرتبہ طبی معائنے کے لیے اسپتال لے جایا گیا جبکہ ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم جیل میں ان کا ہفتہ وار طبی معائنہ کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی بینائی کے مسئلے کا علاج ہو چکا ہے،برین ہیمرج کے خطرے کا اندازہ صرف ملاقات سے نہیں لگایا جا سکتا بلکہ اس کے لیے طبی عوامل کا جائزہ ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا بلڈ پریشر کنٹرول کر لیا گیا تھا جبکہ شوگر سے متعلق ایسی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

 

مزید خبریں