اسلام آباد۔4ستمبر (اے پی پی):جماعت اسلامی پاکستان کی حلقہ خواتین کی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر حمیرا طارق نے کہا ہے کہ عورت معاشرتی نظام کی بنیادی اکائی ہے، اسلام عورت کو عزت، وقار اور سماجی تحفظ کا مکمل حق دیتا ہے، خواتین کے جائز حقوق کا تحفظ اور صنفی تشدد سے پاک معاشرہ جماعت اسلامی کا وژن ہے۔ یہ بات انہوں نے حجاب ریلی کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ انہوں …
خواتین کے جائز حقوق کا تحفظ اور صنفی تشدد سے پاک معاشرہ جماعت اسلامی کا وژن ہے، ڈاکٹر حمیرا طارق

مزید خبریں
اسلام آباد۔4ستمبر (اے پی پی):جماعت اسلامی پاکستان کی حلقہ خواتین کی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر حمیرا طارق نے کہا ہے کہ عورت معاشرتی نظام کی بنیادی اکائی ہے، اسلام عورت کو عزت، وقار اور سماجی تحفظ کا مکمل حق دیتا ہے، خواتین کے جائز حقوق کا تحفظ اور صنفی تشدد سے پاک معاشرہ جماعت اسلامی کا وژن ہے۔ یہ بات انہوں نے حجاب ریلی کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کے معاشرتی نظام میں لازم ہے کہ عورت کی عزت نفس، جائز حقوق کے حصول کو یقینی بنایا جائے، پاکستان کا آئین عورت کو اسلام کے دیئے ہوئے حقوق بھی فراہم کرتا ہے اور تحفظ کا عزم بھی، موجودہ حالات میں عورت کے حقوق کے تحفظ کے قوانین کی پاسداری لازم ہو گئی ہے۔ ڈپٹی سیکرٹری اور ڈائریکٹر میڈیا سیل ثمینہ سعید نے کہا کہ عورت کے حقوق کے تحفظ اور محفوظ ماحول کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے آج 4 ستمبر عالمی یوم حجاب کے موقع پر حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان کی جانب سے ایک پر امن واک کا اہتمام کیا گیا جس میں خواتین کے شرعی حقوق، اس کی عزت و تکریم کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
شرکا خواتین، طالبات اور بچوں نے بینرز، فلیکس اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر عورت کے حقوق اور عزت و ناموس کے تحفظ کے حوالے سے احادیث، نعرے اور مطالبات درج تھے۔ خواتین قائدین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اسلامی اقدار اور عورت کی عزت و تکریم کے تحفظ کے لیے ریاستی سطح پر اقدامات کیے جائیں اور سوشل میڈیا پر خواتین کے خلاف نفرت انگیز مہمات اور ہراسانی کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق حجاب اور حیا عورت کے تحفظ کا قلعہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ ہم معاشرتی اقدار کو بحال کریں اور خواتین کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کریں۔ اس موقع پر ڈپٹی سیکرٹری ڈاکٹر زبیدہ جبیں، صدر وسطی پنجاب نازیہ توحید اور صدر حلقہ لاہور عظمیٰ عمران بھی موجود تھیں۔








