خواتین کے 800 کاروباری منصوبوں کی معاونت کے لیے ڈیڑھ کروڑ ڈالر کا گرین فنانس منصوبہ تجویز

خواتین کے 800 کاروباری منصوبوں کی معاونت کے لیے ڈیڑھ کروڑ ڈالر کا گرین فنانس منصوبہ تجویز

اسلام آباد۔3اکتوبر (اے پی پی):خواتین کی قیادت میں چلنے والے 800 سے زائد کاروباری منصوبوں کی معاونت اور 3,200 خواتین کو تربیت فراہم کرنے کے لیے 15 ملین ڈالر کا صنفی تقاضوں سے ہم آہنگ کلائمیٹ فنانس اینڈ انٹرپرینیورشپ ہب تجویز کیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ پاکستان کے لیے عالمی بینک کے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک (مالی سال 2026 تا مالی سال 2035) کے تحت زیرعمل لایا جا رہا ہے۔

ویلتھ پاکستان کو دستیاب دستاویزات کے مطابق مجوزہ اقدام میں خواتین کاروباری افراد اور موسمیاتی شعبے سے متعلق کاروباروں کی معاونت کے لیے صوبائی ویمنز گرین ایکویٹی فنڈ، چار علاقائی گرین انکیوبیشن مراکز اور پنجاب گرین مارکیٹ پلیس کے قیام کا تصور پیش کیا گیا ہے۔منصوبے کے تحت 3,200 سے زائد افراد کو مستفید کرنے اور 12 ہزار سے زائد گرین روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے، جبکہ اس سے سالانہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مساوی اخراج میں تقریباً 150,000 ٹن کمی کا تخمینہ بھی لگایا گیا ہے۔

مجوزہ سرگرمیوں میں ابتدائی سرمایہ اور گرین گرانٹس کی فراہمی، موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے کاروباری ماڈلز کی تیاری، پائیدار سپلائی چین سے متعلق تربیت اور کاربن مارکیٹس تک رسائی میں سہولت فراہم کرنا شامل ہے۔منصوبے میں مجوزہ فنڈ، چار انکیوبیشن مراکز اور گرین مارکیٹ پلیس کے ذریعے خواتین کاروباری افراد کو تربیت اور معاونت فراہم کرنے کا بھی تصور پیش کیا گیا ہے۔

پنجاب کے محکمہ تحفظ ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی (ای پی اینڈ سی سی ڈی) کو مرکزی ادارے کے طور پر نامزد کیا گیا ہے، جبکہ محکمہ ترقی خواتین، پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (پی آئی ٹی بی) اور یو این ویمن کو معاون اداروں کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔منصوبے کی نگرانی اور جائزے کے لیے صنفی بنیاد پر الگ کیے گئے اعدادوشمار اور اخراج میں تصدیق شدہ کمی کو استعمال کرتے ہوئے ایک ڈیجیٹل ڈیش بورڈ قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔