خواتین یونیورسٹی میں چھٹی بین الاقوامی سیرت النبی ؐ کانفرنس شروع

خواتین یونیورسٹی ملتان میں چھٹی دو روزہ بین الاقوامی سیرت النبی ؐ کانفرنس کا آغاز ہوگیا۔ کانفرنس میں نوجوان نسل کی اخلاقی تربیت، خاندانی نظام کے استحکام، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال پر علمی و تحقیقی مباحث کیے گئے

ملتان ۔ 21 اکتوبر (اے پی پی):خواتین یونیورسٹی ملتان میں چھٹی دو روزہ بین الاقوامی سیرت النبی ؐ کانفرنس کا آغاز ہوگیا۔ کانفرنس میں نوجوان نسل کی اخلاقی تربیت، خاندانی نظام کے استحکام، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال پر علمی و تحقیقی مباحث کیے گئے۔ کانفرنس کا انعقاد شعبہ علوم اسلامیہ اور شعبہ عربی کے اشتراک سے کیا گیا۔ کانفرنس کے افتتاحی اجلاس کی صدارت وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سیدہ شاہدہ بتول نے کی، جبکہ چیئرپرسن شعبہ علوم اسلامیہ اور چیف آرگنائزر پروفیسر ڈاکٹر کلثوم پراچہ سمیت اساتذہ، محققین اور علمی شخصیات نے شرکت کی۔ کانفرنس کا مرکزی موضوع ’’ڈیجیٹل عہد میں نوجوان اور خاندان: اخلاقی و معاشرتی چیلنجز، سیرت طیبہ ؐ کے رہنما اصول اور عملی لائحہ عمل‘‘ ہے۔ افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سیدہ شاہدہ بتول نے کہا کہ ڈیجیٹل دور میں نوجوانوں کو درپیش اخلاقی، نفسیاتی اور معاشرتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سیرت طیبہ ؐ کی تعلیمات سے رہنمائی حاصل کرنا ناگزیر ہے۔

جدید ٹیکنالوجی نے علم اور رابطوں کے نئے مواقع فراہم کیے ہیں، تاہم اس کا غیر ذمہ دارانہ استعمال نوجوانوں کی شخصیت، خاندانی تعلقات اور معاشرتی رویوں پر منفی اثرات مرتب کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں کی ذمہ داری صرف ڈگریوں اور پیشہ ورانہ مہارتوں کی فراہمی نہیں بلکہ طلبہ و طالبات کی کردار سازی اور اخلاقی تربیت بھی ہے۔ والدین اور اولاد کے درمیان اعتماد، مکالمے اور باہمی احترام کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے، جبکہ نئی نسل کی مثبت رہنمائی کے لیے گھر، تعلیمی اداروں اور معاشرے کو مشترکہ کردار ادا کرنا ہوگا۔ کانفرنس کے تحقیقی سیشنز میں سوشل میڈیا کے اخلاقی مسائل، نوجوانوں کی کردار سازی، خاندانی تعلقات اور مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال پر مقالے پیش کیے گئے۔ مقررین نے زور دیا کہ جدید ٹیکنالوجی سے استفادے کے دوران سچائی، امانت داری، معلومات کی تصدیق اور انسانی اقدار کو مقدم رکھا جائے۔

محققین نے سیرت طیبہ ؐ کی تعلیمات کو انفرادی کردار کی تعمیر اور معاشرتی اصلاح کے لیے جامع رہنما اصول قرار دیا۔