پٹسبرگ۔6اپریل (اے پی پی):امریکی ماہرین صحت نے کہا ہے کہ خوشبوؤں کے ذریعے ڈپریشن کے مریضوں کا علاج ممکن ہے، یونیورسٹی آف پٹسبرگ کے شعبہ صحت سے تعلق رکھنے والےماہرین صحت کی جانب سے کی گئی تحقیق سے معلوم ہوا کہ مثبت یادوں کو فعال رکھنے میں خوشبوئیں الفاظ سے زیادہ مؤثر واقع ہوتی ہیں، جس سے ڈپریشن میں مبتلا افراد کو منفی خیالات سے چھٹکارہ پانے میں مدد ملتی …
خوشبوؤں کے ذریعے ڈپریشن کے مریضوں کا علاج ممکن ہے، امریکی ماہرین صحت

مزید خبریں
پٹسبرگ۔6اپریل (اے پی پی):امریکی ماہرین صحت نے کہا ہے کہ خوشبوؤں کے ذریعے ڈپریشن کے مریضوں کا علاج ممکن ہے، یونیورسٹی آف پٹسبرگ کے شعبہ صحت سے تعلق رکھنے والےماہرین صحت کی جانب سے کی گئی تحقیق سے معلوم ہوا کہ مثبت یادوں کو فعال رکھنے میں خوشبوئیں الفاظ سے زیادہ مؤثر واقع ہوتی ہیں، جس سے ڈپریشن میں مبتلا افراد کو منفی خیالات سے چھٹکارہ پانے میں مدد ملتی ہے۔
ماہرین نے ڈپریشن میں مبتلا 18 سے55 برس کے درمیان 32 افراد کو 12 خوشبوئیں سنگھائیں جن میں وکس، کافی، ناریل کے تیل، زیرے کے پاؤڈر، ونیلا ایکسٹریکٹ، لونگ، جوتوں کی پالیش، کینو کے ایسنشیل تیل اور کیچپ کی خوشبوئیں شامل تھیں۔خوشبوؤں کے حامل برتن سنگھانے کے بعد نیورو سائنس دانوں نے شرکا کو مخصوص یادیں دہرانے کے لیے کہا اور ان یادوں کے اچھا یا برا ہونے کے متعلق پوچھا۔
ڈپریشن میں مبتلا افراد جنہوں نے جانی پہچانی خوشبو سونگھی تھیں ان کے مخصوص یاد یا واقعے کے ذہن میں آنے کے امکانات زیادہ تھے۔جب اس طریقے کا الفاظ کے استعمال سے موازنہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ خوشبوؤں کے استعمال کے سبب یادیں زیادہ واضح اور حقیقی طور پر فعال ہوئیں تھیں۔
ماہرین نے کہا کہ ان کے لیے یہ بات حیرت انگیز تھی کہ ڈپریشن میں مبتلا افراد میں یادوں کو فعال کرنے کے لیے پہلے کسی نے خوشبوؤں کا استعمال نہیں کیا تھا۔








