خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی اراکین کے بھی گڈ گورننس پر سوالات، فنڈز کی غیر منصفانہ تقسیم پر شدید تنقید

پشاور۔ 30 مارچ (اے پی پی):خیبرپختونخوا اسمبلی کے پری بجٹ سیشن کے دوران حکمران جماعت کے اراکین اپنی ہی حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے گڈ گورننس پر سنگین سوالات اٹھا دیے۔پیر کے روز اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے حکومتی رکن عبدالکریم خان نے کہا کہ اے ڈی پی میں اکثر ان کی سکیمیں ختم کر دی جاتی ہیں، جس پر شدید تحفظات ہیں۔حزب اختلاف کے ارکان نے …

پشاور۔ 30 مارچ (اے پی پی):خیبرپختونخوا اسمبلی کے پری بجٹ سیشن کے دوران حکمران جماعت کے اراکین اپنی ہی حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے گڈ گورننس پر سنگین سوالات اٹھا دیے۔پیر کے روز اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے حکومتی رکن عبدالکریم خان نے کہا کہ اے ڈی پی میں اکثر ان کی سکیمیں ختم کر دی جاتی ہیں، جس پر شدید تحفظات ہیں۔حزب اختلاف کے ارکان نے کہا کہ پسماندہ اضلاع کو حصہ دینے پر اعتراض نہیں، مگر ناانصافی قبول نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبہ 1800 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہا ہے جبکہ ضرورت 2400 میگاواٹ ہے، پانی کی سطح گر چکی ہے اور انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ نہ ہونے کے برابر ہے۔حکمران جماعت کے اراکین نے حکومت پر زور دیا کہ پرائیویٹ سیکٹر، آئی ٹی، اسپورٹس، معدنیات، زراعت اور انڈسٹریز کے فروغ کیلئے عملی اقدامات کیے جائیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ خیبر بینک کی کارکردگی کیا ہے اور عمران خان کے پانچ ملین گھروں کا وعدہ کہاں گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ “ہمیں رمضان پیکیج نہیں، خود کفالت چاہیے”اے این پی کے رکن نثار باز نے کہا کہ ضم شدہ قبائلی اضلاع میں آج تک مکمل امن قائم نہیں ہو سکا اور وفاق کی جانب سے اعلان کردہ 65 ارب روپے تاحال فراہم نہیں کیے گئے۔ انہوں نے رمضان پیکیج کو “بندر بانٹ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ 13 ارب روپے شفاف انداز میں خرچ نہیں ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئی ڈی پیز کیلئے مختص 15 ارب روپے بھی مستحقین تک نہیں پہنچے۔انہوں نے مزید کہا کہ باجوڑ میں ایک اور آپریشن شروع ہو چکا ہے، ایسے میں حکومت کو پانچ سالہ جامع ریلیف منصوبہ دینا ہوگا۔ پولیس میں افرادی قوت کی کمی دور کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔

ایم پی اے فضل حکیم نے بڑے منصوبوں کیلئے کم فنڈز مختص کرنے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ باقی وسائل کہاں سے آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں صحت کے مسائل، بے روزگاری اور بند ہوتی صنعتیں سنگین صورتحال اختیار کر چکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ زراعت میں خود کفالت ضروری ہے تاکہ گندم کیلئے دوسرے صوبوں پر انحصار ختم ہو۔احسان اللہ نے شکایت کی کہ بجٹ سے قبل کسی قسم کی مشاورت یا ڈیڈک کمیٹی اجلاس نہیں بلایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پی ایف سی کے تحت فنڈز کی منصفانہ تقسیم پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی اور ان کے حلقے میں ایک بھی سکول اپ گریڈ نہیں ہوا۔

انہوں نے مزید کہا کہ تعلیم و صحت پر بھاری بجٹ کے باوجود ڈی آئی خان کا ڈی ایچ کیو ہسپتال ریفرل سینٹر میں تبدیل ہو چکا ہے، جو حکومتی دعوؤں کے برعکس صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔اسمبلی اجلاس میں دیگر اراکین نے بھی تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور گورننس کے مسائل پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے اصلاحات اور ترقیاتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا