وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے خیبرپختونخوا کے معاملات میں وفاقی حکومت کے کردارسنبھالنے کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امن و امان کی بگڑتی صورتحال اور دہشت گردی سے نمٹنے میں مبینہ ناکامیوں کے باعث یہ اقدام ضروری تھا۔
خیبرپختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال کے باعث وفاق کو قدم اٹھانا پڑا، صوبائی قیادت سے مذاکرات کی ہر ممکن کوشش کی، رانا ثناء اللہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔11اکتوبر (اے پی پی):وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے خیبرپختونخوا کے معاملات میں وفاقی حکومت کے کردارسنبھالنے کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امن و امان کی بگڑتی صورتحال اور دہشت گردی سے نمٹنے میں مبینہ ناکامیوں کے باعث یہ اقدام ضروری تھا۔
اتوار کونجی ٹی وی سے گفتگو کرتےہوئے انہوں نے کہا کہ امن کا قیام اور شہریوں کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہےجبکہ سکیورٹی کے بغیر معاشی سرگرمیوں، روزگار، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں ترقی ممکن نہیں۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی فوری ترجیح قانون نافذ کرنے والے اداروں اورسول انتظامیہ کی استعداد کار بہتر بنانا ہوگی تاکہ عسکریت پسندوں سے کلیئر کرائے گئے علاقوں کا مؤثر انتظام سنبھالا اور وہاں سکیورٹی یقینی بنائی جا سکے۔
رانا ثناء اللہ نے صوبائی حکومت کے بعض عناصر پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے انسداددہشت گردی کی کارروائیوں میں مؤثر تعاون نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں پولیس، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اور سول انتظامیہ کی کمزوریوں نے دیرپا امن کے قیام کی کوششوں کو متاثر کیا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت قومی انسداد دہشت گردی پالیسی پر تعاون کرنے اور قومی سلامتی کو سیاسی مفادات پر ترجیح دینے کے لیے صوبائی قیادت کو مسلسل قائل کرتی رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ ہفتے مذاکرات بھی ہوئےتاہم بعد ازاں صوبائی فریق ان بات چیت میں طے پانے والی مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا۔انہوں نے کہا کہ سیاسی رابطہ کاروں سے بھی درخواست کی گئی کہ وہ صوبائی قیادت کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں غیر مبہم عزم کا مظاہرہ کرنے پر آمادہ کریں۔رانا ثناء اللہ نے کہا کہ وفاقی حکومت صوبائی قیادت کے تحفظات دور کرنے کے لیے بات چیت پر آمادہ رہی جن میں ملاقاتوں سے متعلق معاملات اور دیگر مطالبات بھی شامل تھے۔انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت نے فیصلہ کرنے سے پہلے آخری ممکنہ مرحلے تک تمام کوششیں کیں۔







