وفاقی وزیر امور کشمیر،گلگت بلتستان و سیفران و صدر مسلم لیگ (ن) خیبرپختونخوا انجینئر امیر مقام نے لانگ مارچ مؤخر ہونے اور وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے بیان پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کے باشعور عوام نے انتشار کی سیاست کو مسترد کردیا۔
خیبرپختونخوا کے باشعور عوام نے انتشار کی سیاست کو مسترد کردیا، انجینئر امیر مقام

مزید خبریں
اسلام آباد۔26ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر امور کشمیر،گلگت بلتستان و سیفران و صدر مسلم لیگ (ن) خیبرپختونخوا انجینئر امیر مقام نے لانگ مارچ مؤخر ہونے اور وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے بیان پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کے باشعور عوام نے انتشار کی سیاست کو مسترد کردیا۔یہاں جاری بیان کے مطابق انجینئر امیر مقام نے کہا کہ صوبائی حکومت کی ترجیح عوام نہیں انتشار ہے،27 ستمبر گیا، اب 4 اکتوبر آگیا،لیکن خیبرپختونخوا کا سوال وہی ہے، چودہ سال میں صوبے کو کیا دیا؟
صوبہ دہشت گردی اور بدامنی کا سامنا کررہا ہے اور حکومت کی تمام توانائی مارچو ں پر لگی ہے، انجینئر امیر مقام نے کہا کہ دہشت گردی سب سے بڑا مسئلہ ہے، لیکن پی ٹی آئی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ نہیں ہے،خیبر پختونخوا کی حکومت کی ترجیحات میں بھی دہشت گردی کے خاتمے کا کوئی واضح ایجنڈا نظر نہیں آتا،یہ بات بھی قابلِ سوال ہے کہ آج تک پی ٹی آئی کی کسی ریلی، عوامی اجتماع یا کسی رہنما کو دہشت گردی کے کسی حملے کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ عوام جانتے ہیں کہ ہم ماضی میں متعدد مرتبہ خودکش حملوں کا سامنا کر چکے ہیں، اس لیے یہ صورتحال کئی سوالات کو جنم دیتی ہے،دہشت گردی کا درد ان ہزاروں خاندانوں سے پوچھیں جنہوں نے اپنے پیارے کھوئے،کسی بھی صورت میں پولیس پر قبضہ یا اسے اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انجینئر امیر مقام نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں، اور ہم پولیس کو سیاست میں گھسیٹنے کے خلاف ہیں،4 اکتوبر کا واحد مقصد صوبے کو بند رکھنا، عوام کے لیے مزید مشکلات پیدا کرنا اور انہیں مزید سزا دینا معلوم ہوتا ہے۔انجینئر امیر مقام نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کا ایجنڈا عوام کو ریلیف دینا نہیں بلکہ ان کے لیے مزید مسائل اور مشکلات پیدا کرنا دکھائی دیتا ہے،عوام کی انتشاری و فسادی مارچ میں عدم دلچسپی پر 27 ستمبر کی تاریخ تو بدل دی، اب 4 اکتوبر کے نام پر صوبے کو مزید مفلوج کرنے کے علاوہ اور کوئی مقصد نہیں۔







