داتا دربار میں1200 افراد کو اعتکاف کی اجازت دی ہے، ڈاکٹر احسان بھٹہ

صوبائی سیکرٹری اوقاف پنجاب ڈاکٹر احسان بھٹہ نے کہا ہے کہ داتا دربار میں اعتکاف کے لیے اس مرتبہ درخواستوں کی بڑی تعداد موصول ہوئی ہے،انتظامیہ نے3 رمضان سے 10 رمضان تک اعتکاف کے لیے درخواستیں طلب کی تھیں ،اس دوران تقریبا 2600 افراد نے درخواستیں جمع کروائیں تاہم داتا دربار میں جاری تعمیراتی کام کے باعث جگہ کم ہونے کی وجہ سے صرف1200 افراد کو اعتکاف کی اجازت دی …

لاہور۔9مارچ (اے پی پی):صوبائی سیکرٹری اوقاف پنجاب ڈاکٹر احسان بھٹہ نے کہا ہے کہ داتا دربار میں اعتکاف کے لیے اس مرتبہ درخواستوں کی بڑی تعداد موصول ہوئی ہے،انتظامیہ نے3 رمضان سے 10 رمضان تک اعتکاف کے لیے درخواستیں طلب کی تھیں ،اس دوران تقریبا 2600 افراد نے درخواستیں جمع کروائیں تاہم داتا دربار میں جاری تعمیراتی کام کے باعث جگہ کم ہونے کی وجہ سے صرف1200 افراد کو اعتکاف کی اجازت دی جا رہی ہے،

"اے پی پی” سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اعتکاف کے خواہش مند افراد نے باقاعدہ فارم کے ساتھ شناختی کارڈ اور تصویر جمع کروائی جبکہ تمام درخواست دہندگان کی متعلقہ تھانوں سے ویریفیکیشن بھی کروائی گئی تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ان کے خلاف کوئی مقدمہ یا قانونی ریکارڈ موجود نہ ہو،

ویریفیکیشن کے بعد تقریبا 1200 افراد کی فہرست مرتب کی گئی۔ڈاکٹر احسان بھٹہ نے کہا کہ داتا دربار کے خطیب اور ایڈمنسٹریٹر کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کی گئی جس نے موصول ہونے والی درخواستوں کا جائزہ لے کر اعتکاف کرنے والوں کو حتمی منظوری دی۔انہوں نے بتایا کہ خواتین کے لیے بھی اعتکاف کا علیحدہ انتظام کیا گیا ہے،خواتین کے لیے مخصوص جگہ اور الگ راستہ موجود ہے جہاں تقریبا 100 خواتین اعتکاف کریں گی اور ان کے انتظامات مردوں سے مکمل طور پر الگ ہوں گے۔

سیکرٹری اوقاف نے مزید بتایا کہ داتا دربار میں اعتکاف کرنے والوں کی تعداد زیادہ ہونے کی ایک بڑی وجہ یہاں جاری چوبیس گھنٹے لنگر کا نظام ہے،جہاں زائرین اور معتکفین کے لیے کھانے پینے کا انتظام رہتا ہے جبکہ اس کے برعکس لاہور کی بادشاہی مسجد میں اعتکاف کی تعداد نسبتا کم ہوتی ہے کیونکہ وہاں مستقل لنگر کا انتظام موجود نہیں ہوتا اور معتکفین کو سحری و افطاری کا بندوبست خود کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بادشاہی مسجد میں عام طور پر100 سے200 افراد اعتکاف کرتے ہیں اور وہاں افطاری کا انتظام بعض مخیر حضرات کے تعاون سے کیا جاتا ہے،جو مسجد انتظامیہ کے ساتھ ملکر اس میں تعاون کرتے ہیں۔

ڈاکٹر احسان بھٹہ نے بتایا کہ بادشاہی مسجد کی مرکزی عمارت کے ایک حصے کو معتکفین کے لیے مختص کر دیا گیا ہے جہاں مرد حضرات اعتکاف کریں گے جبکہ وہاں خواتین کے اعتکاف کا انتظام موجود نہیں ہے۔ ڈاکٹر احسان بھٹہ نے بتایا کہ داتا دربار اور بادشاہی مسجد میں سحری اور افطار کا انتظام زیادہ تر نجی فلاحی ادارے اور مخیر حضرات کرتے ہیں،داتا دربار میں ڈپٹی وزیر اعظم اسحاق ڈار نے بھی اپنا حصہ ڈال کر سحری و افطاری کا بندوبست اپنے ذمہ لیا ہے،اسی طرح مدینہ فائونڈیشن، الخیرفائونڈیشن اور دیگر مخیر افراد رمضان میں مزارات پر زائرین کے لیے افطار اور سحری کا بندوبست کرتے ہیں۔