دسمبر 2025 میں حکومتی پالیسیوں کے مثبت نتائج ،مہنگائی میں کمی، صنعتی پیداوار میں اضافہ اور مجموعی معاشی اشاریوں میں بہتری آ ئی ہے ، احسن اقبال

اسلام آباد۔12جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ،ترقی ، اصلاحات وخصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ دسمبر 2025 میں حکومتی پالیسیوں کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں، مہنگائی میں کمی، صنعتی پیداوار میں اضافہ اور مجموعی معاشی اشاریوں میں بہتری اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔ پیر کوماہانہ ترقیاتی رپورٹ کے اجراء کی تقریب سے خطاب کرتے …

اسلام آباد۔12جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ،ترقی ، اصلاحات وخصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ دسمبر 2025 میں حکومتی پالیسیوں کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں، مہنگائی میں کمی، صنعتی پیداوار میں اضافہ اور مجموعی معاشی اشاریوں میں بہتری اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔ پیر کوماہانہ ترقیاتی رپورٹ کے اجراء کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات احسن اقبال نے کہا کہ دسمبر 2025 میں حکومت کی مثبت پالیسیوں کے نتیجے میں ملکی معاشی اشاریوں میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اہم شعبوں نے حکومتی اصلاحات کے باعث استحکام برقرار رکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تباہ کن سیلاب کے باوجود مالی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی میں جی ڈی پی نمو 3.7 فیصد رہی جبکہ صنعتی شعبے میں 9.4 فیصد نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ان کے مطابق مالی سال 2025 کی پہلی سہ ماہی میں یہ شرح 1.6 فیصد تھی جس کے مقابلے میں موجودہ بہتری واضح ہے جبکہ زراعت اور خدمات کے شعبوں میں بھی استحکام آیا ہے۔احسن اقبال نے واضح کیا کہ حکومت مصنوعی جی ڈی پی گروتھ بڑھانے کے خلاف ہے اور پائیدار ترقی کو یقینی بنانے کے لئے احتیاط کے دائرے میں رہ کر فیصلے کئے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مؤثر حکومتی اقدامات کے باعث جولائی تا دسمبر 2025 کے دوران مہنگائی کم ہو کر 5.2 فیصد پر آگئی جبکہ دسمبر میں یہ مزید کم ہو کر 5.6 فیصد رہی، جس کی ایک بڑی وجہ ضروری اشیائے خوردونوش کی بہتر دستیابی ہے۔انہوں نے کہا کہ دو سالہ زوال کے بعد لارج سکیل مینوفیکچرنگ میں بحالی آئی ہے اور جولائی تا اکتوبر 2025 کے دوران 5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اسی طرح جولائی تا دسمبر 2025 کے دوران ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں 10 فیصد اضافے کے ساتھ 6.2 کھرب روپے تک پہنچ گئی ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ جولائی تا نومبر مالی سال 2026 کے دوران برآمدات میں ایک فیصد اضافہ ہوا اور سیلاب و سپلائی چین متاثر ہونے کے باوجود برآمدات 16.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ انہوں نے کہا کہ ماہرین کے مطابق پاکستان کی معاشی بہتری کے لئے برآمدی شعبے میں تیز رفتار ترقی ناگزیر ہے اور اس ضمن میں مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ اُڑان پاکستان کے تحت حکومت کو ایکسپورٹ ایمرجنسی نافذ کرنے اور برآمدات بڑھانے کے لئے ہنگامی اقدامات کی سفارشات دی گئی ہیں۔ احسن اقبال نے کہا کہ ہمیں ایکسپورٹس میں بھی ارشد ندیم پیدا کرنے ہیں جو عالمی منڈی میں چیمپئن بنیں۔

انہوں نے کہا کہ جولائی تا دسمبر مالی سال 2026 کے دوران ترسیلات زر میں 10.5 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 19.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جو بیرون ملک پاکستانیوں کے حکومت پر اعتماد اور معیشت میں استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر ملکی زر مبادلہ پاکستان کی معیشت کے لئے آکسیجن کی حیثیت رکھتا ہے۔ترقیاتی بجٹ سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں 356 ارب روپے کے پی ایس ڈی پی منصوبے اتھارائز کئے گئے جبکہ 314.5 ارب روپے کی سینکشن دی گئی۔ کل ایک کھرب روپے کے پی ایس ڈی پی پروگرام میں ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد میں مستحکم پیش رفت دیکھنے میں آئی۔

مالی سال 2025 کی پہلی ششماہی میں پی ایس ڈی پی کا 21 فیصد استعمال ہوا تھا جو گزشتہ سال کے 13.5 فیصد کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔انہوں نے کہا کہ دسمبر میں چار منصوبے منظور کئے گئے جبکہ تین منصوبے ایکنک کو بھجوائے گئے۔ حال ہی میں منظور شدہ منصوبوں سے مختلف شعبوں میں ترقیاتی سرگرمیوں کے باعث تقریباً 3,000 براہِ راست اور 64,500 بالواسطہ ملازمتیں پیدا ہوں گی۔ جولائی تا نومبر 2025 کے دوران ترقیاتی منصوبوں میں اخراجات کو منظم کر کے 3.5 ارب روپے کی بچت بھی کی گئی۔

احسن اقبال نے کہا کہ حکومت خوردنی تیل میں خودکفالت حاصل کرنے کے لئے کینولا آئل کی مقامی پیداوار کو فروغ دے رہی ہے تاکہ آئندہ پانچ سالوں میں مکمل خودکفالت ممکن ہو۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان کی درآمدات میں سب سے زیادہ زرمبادلہ پٹرول، خوردنی تیل اور چائے کی پتی پر خرچ ہوتا ہے، اسی لئے خودکفالت کے اقدامات ناگزیر ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے ایف اے او کی تکنیکی معاونت سے چائے کی تجارتی حکمت عملی شروع کی ہے، جس سے سالانہ 650 ملین ڈالر کی درآمدات کم ہوں گی اور برآمدات میں اضافہ ہوگا۔

یہ حکمت عملی 6 لاکھ ہیکٹر سے زائد زمین اور زرعی کلسٹرز کے ذریعے جدید کاشتکاری، پراسیسنگ، برانڈنگ اور ویلیو ایڈیشن کو فروغ دے گی۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ 9 دسمبر 2025 کو پاکستان نے ابو ظہبی میں پولیو خاتمے کے اعلیٰ سطحی وعدہ اجلاس میں شرکت کی اور پولیو کے خاتمے کو قومی ترجیح قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان دنیا کے وہ دو ممالک ہیں جہاں اب بھی پولیو موجود ہے اور بچوں کو پولیو فری مستقبل دینا ہماری قومی و بین الاقوامی ذمہ داری ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ دسمبر 2025 میں پاکستان نے امریکی محکمہ خارجہ کے وفد سے تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی میں تعاون بڑھانے پر ملاقات کی۔

پاکستان چین کے ساتھ مل کرمصنوعی ذہانت میں دس ہزار اسکالرشپس حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ تعلیمی معیار اور پی ایچ ڈی کی شرح میں اضافہ کیا جا سکے۔سی پیک سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سی پیک پر پیش رفت جاری ہے اور 14ویں جوائنٹ کوآپریشن کمیٹی کے اجلاس کے منٹس آف دی میٹنگ پر چینی حکومت نے دستخط کر دیے ہیں جبکہ جوائنٹ ورکنگ گروپس کے اجلاس مسلسل جاری ہیں۔

آخر میں احسن اقبال نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اگلے دو سالوں میں انرجی سیکٹر میں بھرپور اصلاحات ناگزیر ہیں تاکہ 2027 تک ترقی کی مضبوط بنیاد رکھی جا سکے۔ اسی لیے حکومت نے 2026 کو ادارہ جاتی اصلاحات کا سال قرار دیا ہے جبکہ وزیراعظم ہر اجلاس میں بجلی کے نرخ کم کرنے کے لئے مؤثر اقدامات پر زور دیتے ہیں۔

مزید خبریں