اسلام آباد ۔ 26 دسمبر (اے پی پی) دفاعی تجزیہ نگار ماریہ سلطان نے کہا ہے کہ امریکی انتظامیہ نے بھارتی حکومت کی جانب سے جوہری ٹیکنالوجی سے متعلق بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزیوں کے باوجود بھارت کے جوہری پروگرام سے آنکھیں بند کررکھی ہیں، اس وقت بھی 9 بھارتی ادارے بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی کے حوالے سے امریکی ایکسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل ہیں لیکن یہ …
دفاعی تجزیہ نگار ماریہ سلطان کا ایکسپورٹ کنٹرول نیوکلیئر سپلائرز گروپ اور ہائی ٹیکنالوجی کی تجارت کی حوصلہ شکنی کے موضوع پر خطاب
مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 26 دسمبر (اے پی پی) دفاعی تجزیہ نگار ماریہ سلطان نے کہا ہے کہ امریکی انتظامیہ نے بھارتی حکومت کی جانب سے جوہری ٹیکنالوجی سے متعلق بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزیوں کے باوجود بھارت کے جوہری پروگرام سے آنکھیں بند کررکھی ہیں، اس وقت بھی 9 بھارتی ادارے بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی کے حوالے سے امریکی ایکسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل ہیں لیکن یہ خلاف ورزیاں بھی اسے جوہری سپلائرز گروپ میں بھارت کی حمایت کرنے سے باز ٰنہ رکھ سکیں۔ گذشتہ روزیہاں اسلام آباد میں ایکسپورٹ کنٹرول نیوکلیئر سپلائرز گروپ اور ہائی ٹیکنالوجی کی تجارت کی حوصلہ شکنی کے موضوع پر اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کی جانب سے جینوا میں نیوکلئرسپلائرگروپ میں بھارت کی شمولیت سے متعلق غوروخوص سے یہ حقائق سامنے آئے ہیں کہ آج بھی 9 بھارتی ادارے امریکی کنٹرول لسٹ میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کے جوہری پروگرام کے حوالے سے کسی قابل اعتماد کیس کی عدم موجودگی کے باوجود پاکستانی اداروں کے خلاف سوشل میڈیا، انٹیلی جنس رپورٹس جیسے غیرمصدقہ ذرائع بروئے کارلائے جا رہے ہیں تا کہ جوہری پروگرام کے حوالے سے پاکستان کے اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا اور خدشات کو ظاہر کیا جا سکے۔








