اسلام آباد ۔ 28 مارچ (اے پی پی) دفترخارجہ نے اسلام آباد میں سفارتی برادری کو پلوامہ کے واقعہ سے متعلق پاکستان کی ابتدائی تحقیقات بارے میں بریفنگ دی۔ یہ بریفننگ جمعرات کو وزارت خارجہ میں منعقد ہوئی جس میں اٹارنی جنرل آف پاکستان ، خارجہ و داخلہ سیکریٹریوں اور ڈائریکٹر جنرل وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) نے شرکت کی۔سفارتکاروں کو کو بتایا گیا کہ پاکستان کا یہ اقدام …
دفتر خارجہ کی سفارت کاروں کو پلوامہ کے واقعہ سے متعلق ابتدائی تحقیقات بارے میں بریفنگ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 28 مارچ (اے پی پی) دفترخارجہ نے اسلام آباد میں سفارتی برادری کو پلوامہ کے واقعہ سے متعلق پاکستان کی ابتدائی تحقیقات بارے میں بریفنگ دی۔ یہ بریفننگ جمعرات کو وزارت خارجہ میں منعقد ہوئی جس میں اٹارنی جنرل آف پاکستان ، خارجہ و داخلہ سیکریٹریوں اور ڈائریکٹر جنرل وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) نے شرکت کی۔سفارتکاروں کو کو بتایا گیا کہ پاکستان کا یہ اقدام پلوامہ حملے کے بارے میں بھارت کے ساتھ تعاون کرنے کے لئے اس کے عزم سے ہم آہنگ ہے۔انہیں آگاہ کیا گیا کہ پاکستان نے 27 فروری کو بھارت کی طرف سے اس کے ساتھ دستاویز شیئر کئے جانے کے فوری بعد ایک تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی اور تحقیقات کے لئے کئی افراد کی تعیناتی کے علاوہ بھارتی دستاویز کے بنیادی جزو،سوشل میڈیا کے مواد کے تکنیکی پہلوﺅں پر کام کا آغاز بھی کیا۔ انکشاف ہوا کہ بھارتی دستاویز 91 صفحات اور 6 حصوں پر مشتمل تھی۔جس میں سے دوسرا اور تیسرا حصہ پلوامہ کے واقعہ کے بارے میں ہے جبکہ دیگرحصے عمومی الزامات ہیں۔ پاکستان نے ان حصوں پر توجہ مرکوز کی جو پلوامہ کے واقعہ سے متعلق تھے۔بریفنگ میں اجاگر کیا گیا کہ تحقیقات کے دوران بھارت کی طرف سے فراہم کردہ اطلاعات کے تمام پہلوﺅں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جن میں عادل ڈار کی ”اعترافی“ ویڈیو ، حملے کی ذمہ داری کا ”دعویٰ“ ، پلوامہ حملے کی اعانت میں ویڈیو اور پیغامات شیئر کرنے کے لئے استعمال کئے جانے والے وٹس ایپ اور ٹیلی گرام نمبرز، کالعدم تنظیم سے متعلق 90 مشتبہ افراد کی فہرست اور مبینہ تربیتی کیمپوں کے 22 نشاندہی کردہ مقامات شامل تھے۔ بھارت کی طرف سے فراہم کردہ جی ایس ایم نمبرز کے رابطے اور سرگرمیوں کی متعلقہ تفصیلات سمیت ڈیٹا کی فراہمی کے لئے سروس پرووائڈر سے درخواست کی گئی۔ امریکی حکومت کو بھی وٹس ایپ سے معاونت کی فراہمی کی درخواست کی گئی ہے۔بریفنگ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ 54 زیر حراست افراد سے پوچھ گچھ کی گئی تاہم اب تک ان کا پلوامہ واقعہ سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوا۔اسی طرح بھارت کی طرف سے نشاندہی کردہ 22مقامات کا جائزہ لیا گیا ایسے کسی کیمپ کا وجود نہیں ہے پاکستان درخواست پر ان مقامات کے دوروں کی اجازت دینے کے لئے تیار ہے۔دفتر خارجہ نے کہا کہ تحقیقات کے عمل کو جاری رکھنے کے لئے بھارت سے اضافی اطلاعات اور دستاویزات درکار ہوںگی جبکہ پاکستان اس عمل کو منطقی نتیجے تک پہنچانے کے لئے بدستور پرعزم ہے۔








