دنیا بھر میں تقریباً 589 ملین بالغ افراد ذیابیطس سے متاثر ہیں، 252 ملین افراد کو ذیابیطس کا مرض ہے لیکن وہ اس سے بے خبر ہیں، معروف طبی ماہر ڈاکٹر سکندر اقبال

دنیا بھر میں تقریباً 589 ملین بالغ افراد ذیابیطس سے متاثر ہیں، 252 ملین افراد کو ذیابیطس کا مرض ہے لیکن وہ اس سے بے خبر ہیں ۔

اسلام آباد۔9اگست (اے پی پی):دنیا بھر میں تقریباً 589 ملین بالغ افراد ذیابیطس سے متاثر ہیں، 252 ملین افراد کو ذیابیطس کا مرض ہے لیکن وہ اس سے بے خبر ہیں ۔

معروف طبی ماہر ڈاکٹر سکندر اقبال نے اپنی ایک تجزیاتی رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں موٹاپا پری ذیابیطس ، ٹائپ ٹو ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، نان الکوحلک فیٹی لیور ڈیزیز اور دل کی بیماریاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موٹاپا ایک عالمی وبا کی شکل اختیار کر چکا ہے جس کی وجہ سے شوگر کا مرض عام ہو چکا ہے۔ انٹرنیشنل ڈائیبیٹیز فیڈریشن کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر سکندر اقبال نے کہا کہ گزشتہ سال 2025 میں دنیا بھر میں تقریباً 58 کروڑ 90 لاکھ یعنی (589ملین) بالغ افراد ذیابیطس سے متاثر ہیں جبکہ 25 کروڑ بیس لاکھ (252 ملین ) افراد ایسے ہیں جن کو ذیابیطس کا مرض لاحق ہے مگر وہ اس سے بے خبر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا شمار بھی ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں ذیابیطس کی شرح دنیا میں بلند ترین سطحوں میں شامل ہوتی ہے جس کی بڑی وجوہات میں غیر متوازن غذا، جسمانی سرگرمیوں کی کمی، موٹاپا اور غیر صحت مند طرز زندگی شامل ہیں۔ ڈاکٹر سکندر اقبال نے کہا کہ ادویات کے ساتھ ساتھ طرز زندگی کی تبدیلیاں ناگزیر ہیں جو بیماری کے خطرات کو کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جدید تحقیق کے مطابق ادویات کے ساتھ ساتھ صحت مند طرز زندگی اور بیماریوں کی روک تھام اور علاج میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس وقت عالمی سطح پر انٹرمٹنٹ فاسٹنگ کا رجحان تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔

مزید خبریں