اقوام متحدہ ۔11دسمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسیف) نے بدھ کے روز ہیومینٹیرین ایکشن فار چلڈرن 2026 کے تحت 7.66 ارب امریکی ڈالر کی ہنگامی عالمی اپیل جاری کی ہے، جس کا مقصد آئندہ سال 133 ممالک اور خطوں میں 7 کروڑ 30 لاکھ بچوں کو زندگی بچانے میں معاون امداد فراہم کرنا ہے۔شنہوا کے مطابق اقوام متحدہ کے ترجمان فرحان حق کے مطابق عالمی فنڈنگ …
دنیا بھر کے کروڑوں بچوں کو بچانے کیلئے یونیسیف کی 7.66 ارب ڈالرکی ہنگامی امداد کی اپیل

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔11دسمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسیف) نے بدھ کے روز ہیومینٹیرین ایکشن فار چلڈرن 2026 کے تحت 7.66 ارب امریکی ڈالر کی ہنگامی عالمی اپیل جاری کی ہے، جس کا مقصد آئندہ سال 133 ممالک اور خطوں میں 7 کروڑ 30 لاکھ بچوں کو زندگی بچانے میں معاون امداد فراہم کرنا ہے۔شنہوا کے مطابق اقوام متحدہ کے ترجمان فرحان حق کے مطابق عالمی فنڈنگ میں مسلسل کمی اور بنیادی خدمات کے تیزی سے زوال نے بچوں کی انسانی ضروریات میں خطرناک اضافہ کر دیا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ اور متوقع فنڈنگ کٹوتیاں پہلے ہی یونیسیف کی سرگرمیوں کو محدود کر رہی ہیں، اور 2024 و 2025 میں شدید مالی خساروں نے ادارے کو مشکل فیصلے کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔یونیسیف کے مطابق محض غذائیت کے شعبے میں ہی 2025 کے دوران 72 فیصد فنڈنگ گیپ نے 20 ترجیحی ممالک میں کٹوتیاں ناگزیر بنا دیں، جبکہ تعلیم کے شعبے میں 745 ملین ڈالر کی کمی نے لاکھوں بچوں کو سیکھنے، تحفظ اور استحکام تک رسائی سے محروم کر دیا ہے۔ ادارے نے حکومتوں اور بین الاقوامی ڈونرز پر زور دیا ہے کہ وہ لچکدار اور طویل المدتی فنڈنگ فراہم کریں، مقامی شراکت داروں کی حمایت مضبوط بنائیں اور ضرورت مند بچوں تک رسائی یقینی بنانے کے لیے انسانی اصولوں پر قائم رہیں۔
پریس ریلیز کے مطابق امداد کے منتظر 7 کروڑ 30 لاکھ بچوں میں سے 3 کروڑ 70 لاکھ بچیاں ہیں جبکہ 90 لاکھ سے زائد بچے مختلف معذوریوں کا شکار ہیں۔ یونیسیف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل نے کہا کہ دنیا بھر میں جنگ، آفات، بے گھر ہونے اور معاشی بحران میں پھنسے بچے غیر معمولی چیلنجز سے لڑ رہے ہیں۔ ان کے بقول یہ بچے تشدد، بھوک کے خطرے، بڑھتے ہوئے موسمیاتی جھٹکوں اور ضروری خدمات کے ٹوٹتے ہوئے نظام کے نتائج بھگت رہے ہیں۔یونیسیف کے مطابق 2026 میں 20 کروڑ سے زائد بچے انسانی مدد کے محتاج ہوں گے، اور اگر فنڈنگ کا بحران برقرار رہا تو لاکھوں معصوم زندگیاں مزید خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔








