واشنگٹن۔2 ستمبر (اے پی پی) عالمی ادارہ صحت(ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں خسرے کے انفیکشن میں اضافے کی روک تھام کیلئے فوری اقدام درکار ہیں کیونکہ یہ انفیکشن خطرناک سطح پر پہنچ چکا ہے۔رواں سال دنیا کے مختلف ملکوں سے اب تک خسرے کے تقریباً 3 لاکھ 50 ہزار کیسز کی اطلاع موصول ہوئی ہے جو 2006ء کے بعد سے اب تک …
دنیا میں خسرہ خطرناک حد تک پہنچ گیا، عالمی ادارہ صحت

مزید خبریں
واشنگٹن۔2 ستمبر (اے پی پی) عالمی ادارہ صحت(ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں خسرے کے انفیکشن میں اضافے کی روک تھام کیلئے فوری اقدام درکار ہیں کیونکہ یہ انفیکشن خطرناک سطح پر پہنچ چکا ہے۔رواں سال دنیا کے مختلف ملکوں سے اب تک خسرے کے تقریباً 3 لاکھ 50 ہزار کیسز کی اطلاع موصول ہوئی ہے جو 2006ء کے بعد سے اب تک سب سے زیادہ تعداد ہے۔ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال اس وقت کے مقابلے میں بھی یہ اعداد و شمار تین گنا زیادہ ہیں، اس تعداد میں مزید اضافے کی توقع ہے۔عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ دنیا کے ہر علاقے میں خسرے کے کیسز کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور استثنیٰ صرف امریکی خطے میں ہے۔ عالمی ادارے کے ڈیپارٹمنٹ آف ایمیو نائزیشن ویکسینز اور بائو لاجیکلز کی ڈائریکٹر او برائن کا کہنا ہے کہ اس اعداد و شمار کے ساتھ دنیا پیچھے کی جانب لوٹ رہی ہے اور 2020ء تک اس خطرناک بیماری کے خاتمے کیلئے درست راستے پر نہیں ہے۔ اگر چہ خسرہ خطرناک مرض ہے لیکن اس کی روک تھام بڑی حد تک ممکن ہے۔








