دنیا کے بیشتر ممالک میں مرکزی بنک کے گورنرکے عہدے پر تقرری کیلئے متعلقہ مہارت اوربین الاقوامی تجربہ اہمیت کا حامل ہوتاہے،ڈاکٹر رضا باقر کا بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ کام کرنے کا 18 سال کا تجربہ ہے ،سٹیٹ بینک ذرائع

اسلام آباد ۔ 8 مئی (اے پی پی) ماہرین نے کہاہے کہ دنیاءکے بیشتر ممالک میں مرکزی بنک کے گورنرکے عہدے پر تقرری کیلئے متعلقہ مہارت اوربین الاقوامی تجربہ اہمیت کا حامل ہوتاہے،بیشتر ممالک میں اس عہدے پر ایسے پیشہ وارانہ مہارت کے حامل ماہر ین کا تقرر کیا جاتاہے جن کا معروف بین الاقوامی اداروں میں ذمہ داریاں اداکرنے کا تجربہ ہو۔ جون 1948ءسے ہی پاکستان میں ایسے مالیاتی …

اسلام آباد ۔ 8 مئی (اے پی پی) ماہرین نے کہاہے کہ دنیاءکے بیشتر ممالک میں مرکزی بنک کے گورنرکے عہدے پر تقرری کیلئے متعلقہ مہارت اوربین الاقوامی تجربہ اہمیت کا حامل ہوتاہے،بیشتر ممالک میں اس عہدے پر ایسے پیشہ وارانہ مہارت کے حامل ماہر ین کا تقرر کیا جاتاہے جن کا معروف بین الاقوامی اداروں میں ذمہ داریاں اداکرنے کا تجربہ ہو۔ جون 1948ءسے ہی پاکستان میں ایسے مالیاتی ماہرین کا تقرر کیا جاتا رہا ہے جن کا عالمی مالیاتی اداروں میں کام کرنے کا وسیع تجربہ رہا ہے، اسی رجحان کے پیش نظر حکومت پاکستان نے حال ہی میں ڈاکٹر رضا باقر کی سٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر کے عہدے پر تین سال کے لئے تقرری کی ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذرائع نے بتایا کہ ڈاکٹر رضا باقر کا بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور عالمی بینک کے ساتھ کام کرنے کا بالترتیب 18 اور 2 سال کا تجربہ رہا ہے۔ وہ اگست 2017ءسے مصر میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ آفس کے سینئر ریذیڈنٹ نمائندہ کے طور پر کام کر رہے تھے۔ انہوں نے بلغاریہ اور رومانیہ میں آئی ایم ایف مشن کے چیف ، آئی ایم ایف ڈیٹ پالیسی ڈویژن کے چیف ،پیرس کلب کیلئے آئی ایم ایف وفد کے سربراہ ، آئی ایم ایف ایمرجنگ مارکیٹ ڈویژن کے ڈویژن چیف، فلپائن کیلئے آئی ایم ایف ریزیڈنٹ نمائندہ سمیت کئی کلیدی عہدوں پر کام کیا ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذرائع کے مطابق اس سے قبل ڈاکٹر شمشاد اختر نے 2 جنوری 2006ءکو سٹیٹ بینک کی گورنر کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالیں۔ وہ اس سے قبل 2004ءسے ایشیائی ترقیاتی بینک کے جنوب مشرقی ایشیائی شعبہ کی ڈائریکٹر جنرل کے طور پر کام کر رہی تھیں۔ وہ عالمی بینک میں مالیاتی مارکیٹس کے تناﺅ و تجزیہ اور زری پالیسی کے تجزیہ کی ذمہ داری بھی سر انجام دے چکی تھیں۔ سید سلیم رضا جنہوں نے 2 جنوری 2009ءکو سٹیٹ بینک کے گورنر کی حیثیت سے ذمہ داریاں سر انجام دینا شروع کیں، ان کا بین الاقوامی بینکنگ میں 36 سال کا تجربہ رہا ہے۔ اسی طرح اشرف محمود وتھرا جنہوں نے 29 اپریل 2014ءسے گورنر سٹیٹ بینک کی گورنر کی ذمہ داریاں سنبھالیں، بھی آئی ایم ایف، ایشیئن کلیئرنگ یونین اور ای سی او ٹریڈ اینڈ ڈویلپمنٹ بینک میں بھی کام کر چکے تھے۔ 1999 سے 2005 تک سٹیٹ بینک کے گورنر رہنے والے ڈاکٹر عشرت حسین کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے آئی ای او کے جائزہ کے لئے تین رکنی پینل میں بھی شامل کیا تھا۔ وہ آئی ایم ایف کے مشرق وسطیٰ کے لئے مشاورتی گروپ کا حصہ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ یو این ڈی پی کے علاقائی ایڈوائزری گروپ اور عالمی بینک کے پریذیڈنٹ ایڈوائزری کونسل اور عالامی اقتصادی فورم کے گلوبل ایڈوائزری کونسل میں بھی ذمہ داریاں سر انجام دے چکے تھے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاکستان کے علاوہ پڑوسی ممالک میں بھی مرکزی بینکوں کے گورنر کے عہدوں پر اسی طرح کے بین الاقوامی تجربے کے حامل ماہرین کا تقرر کیا جاتا رہا ہے۔ سنٹرل بینک بھارت کے 24 ویں گورنر ڈاکٹر ارجت راج پٹیل، جو 4 ستمبر 2016ءسے دسمبر 2018ءتک اپنے عہدے پر کام کرتے رہے، بھی آئی ایم ایف میں ذمہ داریاں سر انجام دے چکے ہیں۔ 1996-97ءمیں وہ ریزور بینک آف انڈیا میں آئی ایم ایف دیپوٹیشن پر آئے۔ انہوں نے ڈیٹ مارکیٹ، بینکنگ کے شعبہ میں اصلاحات، پنشن کے شعبہ میں اصلاحات اور فارن ایکس چینج مارکیٹ کے تجزیے میں نمایاں ذمہ داریاں سر انجام دیں۔ اسی طرح ریزور بینک آف انڈیا کے 23 ویں گورنر ڈاکٹر راگورام راجن نے بھی آئی ایم ایف کے چیف اکانومسٹ اور اسی ادارے کے ریسرچ ڈائریکٹر کے طور پر ذمہ داریاں انجام دیں ہیں۔ ریزور بینک آف انڈیا کے ایک اور گورنر ڈاکٹر سبھارو 1999-2004ءتک عالمی بینک کے اہم اقتصادی ماہرین میں سے ایک تھے، انہوں نے افریقہ اور مشرقی ایشیاءمیں پبلک فنانس کے شعبہ میں بہت کام کیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مالیاتی اور زری پالیسی کا انتظام و انصرام اہمیت کا حامل شعبہ ہوتا ہے، اس مقصد کے لئے ایسے پیشہ ورانہ مہارت کے حامل ماہرین کا تقرر کیا جاتا ہے جنہوں نے بڑے عالمی اداروں میں ذمہ داریاں سر انجام دیں اور انہیں اپنے شعبے میں مہارت حاصل ہو۔ ماہرین نے کہا کہ سٹیٹ بینک کے گورنر کے عہدے پر ڈاکٹر رضا باقر کا تقرر اہمیت کا حامل ہے کیونکہ ان کے پاس مطلوبہ مہارت اور تجربہ موجود ہے۔

Leave a Reply