دورانِ ملازمت وفات پانے والے ملازمین کے بچوں کی کوٹہ پر بھرتی کیس، آئینی عدالت نے اپیل خارج کر دی
دورانِ ملازمت وفات پانے والے ملازمین کے بچوں کی کوٹہ پر بھرتی کیس، آئینی عدالت نے اپیل خارج کر دی

مزید خبریں
اسلام آباد۔7مئی (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے دورانِ ملازمت وفات پانے والے سرکاری ملازمین کے بچوں کو کوٹہ پر دی جانے والی ملازمتوں سے متعلق کیس میں کلرک سمعیہ نذیر کی اپیل خارج کر دی، تاہم عدالت نے حکومت کو ملازمت کے دوران حاصل کی گئی تنخواہوں اور مراعات کی ریکوری سے روک دیا۔چیف جسٹس جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں قائم بینچ نے جمعرات کو کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ پہلے ہی قرار دے چکی ہے کہ فیصلے سے قبل ہونے والی بھرتیاں برقرار رہیں گی، جبکہ ان کی موکلہ پنجاب میں کوٹہ پالیسی ختم ہونے سے پہلے بھرتی ہوئی تھی۔
اس موقع پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ درخواست گزار کے کیس پر لاگو نہیں ہوتا کیونکہ پنجاب میں فوت ہونے والے ملازمین کے بچوں کو ملازمت دینے کا قانون ختم ہو چکا ہے۔سماعت کے دوران جسٹس باقر نجفی نے ریمارکس دیے کہ پنجاب میں وفات پانے والے ملازمین کے بچوں کو ملازمت دینے سے متعلق قانون ختم کیا جا چکا ہے، جبکہ چیف جسٹس جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ سندھ حکومت نے بھی سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں یہ کوٹہ ختم کر دیا تھا۔چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ خلافِ قانون بھرتیاں متعلقہ اداروں نے کیں، ملازمین کا اس میں کوئی قصور نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملازمین نے جتنا عرصہ کام کیا، اس دوران ملنے والی تنخواہیں اور مراعات واپس نہیں لی جا سکتیں۔عدالت کو بتایا گیا کہ محکمہ زراعت پنجاب نے خلافِ قانون کوٹہ پر بھرتی ہونے والی کلرک سمعیہ نذیر کو ملازمت سے برطرف کر دیا تھا، جبکہ لاہور ہائی کورٹ بھی ان کی برطرفی کے خلاف درخواست مسترد کر چکی تھی۔ بعد ازاں وفاقی آئینی عدالت نے بھی اپیل خارج کرتے ہوئے برطرفی برقرار رکھی۔








