دولت مشترکہ کے رکن ممالک کو مشترکہ چیلنجوں اور خطرات سے نمٹنے کےلئے مشترکہ حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے، سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر دولت مشترکہ کے دن کی مناسبت سے منعقدہ سیمینار سے خطاب

اسلام آباد ۔ 9 مارچ (اے پی پی) سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے دولت مشترکہ کے رکن ممالک پر مشترکہ چیلنجوں اور خطرات سے نمٹنے کےلئے مشترکہ حکمت عملی اپنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے، دولت مشترکہ تنظیم کی تشکیل کا مقصد دولت مشترکہ کی ریاستوں کے مابین باہمی تعاون اور انفرادی فوائد و تجربات کے تبادلوں کے ذریعے دولت مشترکہ کے رکن ممالک کے اجتماعی مستقبل کی …

اسلام آباد ۔ 9 مارچ (اے پی پی) سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے دولت مشترکہ کے رکن ممالک پر مشترکہ چیلنجوں اور خطرات سے نمٹنے کےلئے مشترکہ حکمت عملی اپنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے، دولت مشترکہ تنظیم کی تشکیل کا مقصد دولت مشترکہ کی ریاستوں کے مابین باہمی تعاون اور انفرادی فوائد و تجربات کے تبادلوں کے ذریعے دولت مشترکہ کے رکن ممالک کے اجتماعی مستقبل کی تعمیر اور دنیا کی ترقی و خوشحالی ہے، جمہوری اقدار کے فروغ کےلئے آج سے 71 سال پہلے 54 ممالک کے مابین ہونے والے لندن اعلامیہ کی بدولت دولت مشترکہ کے رکن ممالک ایک دوسرے کے ساتھ منسلک ہیں۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطابق انہوں نے ان خیالات کا اظہاردولت مشترکہ کے دن کی مناسبت سے پاکستان انسی ٹیوٹ آف پارلیمنٹری سروسز میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سپیکر نے کہا کہ اس وقت دنیا کومشترکہ نوعیت کے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے جن میں کرونا وائرس ، موسمی تبدیلیاں، اسلامو فوبیا، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی شامل ہیں جو دولت مشترکہ کے رکن ممالک کےلئے بڑا مسئلہ ہے اور ان چیلینجز پر قابو پانے کےلئے ایک مربوط حکمت عملی اپنانے کے ضرورت ہے۔ سپیکر نے کہا کہ ہماری مشترکہ اقدار اور اصولوں سے وابستگی سے ہمیں درپیش چیلنجوں کا مقابلہ کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ انہوں نے دولت مشترکہ برادری پر زور دیا کہ وہ ان چیلنجوں سے نمٹنے کےلئے کردار ادا کرے۔ انہوں کہا کہ اس وژن کو سمجھنے اور دولت مشترکہ ممالک کو قریب لانے کےلئے پارلیمانی سفارتکاری اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ سپیکر نے کہا کہ دولت مشترکہ کے رکن ممالک کو بھوک، غربت کے خاتمہ، صحت اور تعلیم کی فراہمی، پائیدار ترقی اور خواتین کو بااختیار بنانے اور دنیا میں امن و سلامتی کےلئے ہم آہنگی کے فروغ کےلئے کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔ مسئلہ کشمیر پر عالمی برادری خصوصاََ دولت مشترکہ برادری کی توجہ مبذول کراتے ہوئے سپیکر نے کہا کہ 5 اگست 2019ءسے نریندرہ مودی کی فاشسٹ حکومت نے مقبوضہ کشمیر کو ایک اوپن ایئر جیل بناکر رکھا ہے اور مواصلاتی نظام کی ناکہ بندی نے مقامی لوگوں کی زندگیوں کو اجیرن بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندواتہ نظریہ کے پیروکاروں کے ذریعہ دہلی میں حالیہ فسادات اور مساجد کی توڑ پھوڑ اس کی ایک واضح مثال ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کوکس نظر سے دیکھا جاتا ہے اور کس طرح ا±ن کے حقوق کو پامال کیا جاتا ہے۔ سپیکر نے کہا کہ دھونس یا آئینی دھوکہ دہی مقبوضہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو تبدیل نہیں کرسکتی ہے۔ انہوں نے معصوم کشمیری عوام کی حالت زار کو ا±جاگر کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں پر خاموشی عالمی برادری کے ضمیر کا امتحان ہے۔ انہوں نے دولت مشترکہ کے رکن ممالک کو دولت مشترکہ پارلیمانی ایسوسی ایشن (سی پی اے) کے پلیٹ فارم سے مقبوضہ کشمیر کے پر امن حل کےلئے آواز ا±ٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ خطے کی ترقی اور پائیدار امن کے قیام کےلئے مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی خواہشات اور بین الاقوامی وعدوں کے مطابق حل کرنا ضروری ہے۔ پاکستان کی خطہ میں امن اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ خوشگوار تعلقات کی خواہش کا اعادہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان پرامن ہمسائیگی اور متنازعہ مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان افغان امن مذکرات کا خیرمقدم کرتا ہے اور امید ہے کہ اس امن معاہدے سے افغانستان میں امن قائم ہو گا افغان مہاجرین کی باعزت اپنے گھروں کو واپسی ممکن ہو گی۔ ترقی کےلئے امن کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے سپیکر نے کہا کہ مشترکہ تعاون اور خیر سگالی ہی سب طبقات خصوصاََ خواتین ، نوجوانوں اور پسماندہ طبقات کے لئے معاشی استحکام کو یقینی بناسکتی ہے۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ دولت مشترکہ ممالک فعال پارلیمانی برادری کی تشکیل کے ذریعے ترقی اور خوشحالی کا ثمر بانٹنے میں کامیاب ہونگے۔ سیمینار سے چیئرمین پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر اور چیئر پرسن سی ڈبلیو پی وویمن کاکس شندانہ گلزار نے بھی خطاب کیا اور دولت مشترکہ کے تاریخی پس منظر سمیت اس کی اہمیت، افادیت اور ممبر ممالک میں جمہوریت کے فروغ اور جمہوری اداروں کے استحکام کے کردار کو ا±جاگر کیا۔ سیمینار میں چیئرمین پارلیمانی کشمیر کمیٹی سیّد فخر امام، شندانہ گلزار خان ایم این اے، چیئرپرسن سی ڈبلیو پی ویمن کاکس اور دولت مشترکہ ممالک کے ہائی کمشنرز، دولت مشترکہ ممالک کے پارلیمانی فرینڈ شپ کروپس کے کنوینئرز، پارلیمنٹیرینز اور قومی اسمبلی اور پپس کے اعلیٰ افسران کے علاوہ میڈیا، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور مختلف یونیورسٹیوں کے طلباءو طالبات نے شرکت کی۔

مزید خبریں