اسلام آباد۔22جنوری (اے پی پی):اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کا 10واں وزارتی اجلاس جمعرات کو اسلام آباد اعلامیہ کی منظوری کے ساتھ اختتام پذیر ہو گیا جس میں ای سی او رکن ممالک نے آفات سے نمٹنے کے لئے علاقائی تعاون، اجتماعی استحکام اور مشترکہ اقدامات کے عزم کا اعادہ کیا۔ دو روزہ اجلاس (21 تا 22 جنوری 2026) حکومتِ پاکستان کی جانب سے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این …
دو روزہ اقتصادی تعاون تنظیم کا دسواں وزارتی اجلاس اسلام آباد اعلامیہ کی منظوری کے ساتھ اختتام پذیر

مزید خبریں
اسلام آباد۔22جنوری (اے پی پی):اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کا 10واں وزارتی اجلاس جمعرات کو اسلام آباد اعلامیہ کی منظوری کے ساتھ اختتام پذیر ہو گیا جس میں ای سی او رکن ممالک نے آفات سے نمٹنے کے لئے علاقائی تعاون، اجتماعی استحکام اور مشترکہ اقدامات کے عزم کا اعادہ کیا۔ دو روزہ اجلاس (21 تا 22 جنوری 2026) حکومتِ پاکستان کی جانب سے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے منعقد کیا جس میں ای سی او ممالک کے وزراء، اعلیٰ حکام اور علاقائی و بین الاقوامی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔آفات سے نمٹنے اور خطرات کے تدارک کے حوالے سے پاکستان نے پہلی بار ای سی او اجلاس کی میزبانی کی ہے۔
اختتامی اجلاس میں 21 جنوری کو ہونے والی اعلیٰ سطحی ورکنگ گروپ کی میٹنگ کے نتائج کا جائزہ لیتے ہوئے اہم علاقائی فیصلوں کی توثیق کے ساتھ ساتھ ای سی او وژن 2025 اور سینڈائی فریم ورک کے اہداف کے مطابق آفات کی تیاری، خطرات کے تدارک اوراستحکام کو مضبوط بنانے کے لئے مشترکہ اقدامات کے لئے باہمی معاہدوں کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ آذربائیجان کے نائب وزیر برائے ہنگامی حالات لیفٹیننٹ جنرل عادل عبداللہ یوف اور کرغزستان کے نائب وزیر ارنسٹ ژوسوپوف نے علاقائی ہم آہنگی، معلومات کے تبادلے، اجتماعی تیاری اور مؤثر پیشگی آگاہی او ر اقدامات کے حوالے سے نظام کی اہمیت پر زور دیا۔
تاجکستان کے ڈپٹی چیئرمین میجر جنرل ایزوزادہ سلیمان عمر نے موسمیاتی خطرات کے بڑھتے ہوئے اثرات اور مربوط علاقائی لائحہ عمل کی ضرورت پر اظہار خیال کیا جبکہ ترکیہ کے ادارہ آفاد کے سربراہ علی حمزہ پہلوان نے مشترکہ تربیتیپروگرامز،فرضی مشقوں اورزلزلہ کے حوالے سے علاقائی معلوماتی سینٹر کے قیام کی اہمیت پر زور دیا۔ازبکستان کے نائب وزیر سنجار ذوقروف نے علاقائی معاہدوں کو عملی اقدامات میں ڈھالنے پر زور دیا۔پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے این ڈی ایم اے کے آفا ت کے خطرات کے تدارک کے ممبرمحمد ادریس محسود نے جدید اور جامع حکمتِ عملی، ٹیکنالوجی پر مبنی استعدادکار اور ابتدائی انتباہی نظام کے فروغ کی اہمیت کے حوالے سے اظہار خیال کیا۔
ترکمانستان کے دفاعی اتاشی امید اوراز محمدوف اور ایران کے سفارتی نمائندے عبدالرحیم مطہری راد نے ای سی او فریم ورک کے تحت تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔اجلاس کا ایک اہم نتیجہ ای سی او علاقائی لائحہ عمل برائے ڈی آر آر(2025–2030) کی منظوری تھی جو خطے میں آفات سے نمٹنے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات کے تدارک کے لئے جامع راہنمائی فراہم کرے گا۔ اجلاس میں مختلف خطوں کو در پیش خطرات کی تشخیص، امداد اور بچاؤکے اقدامات میں مشترکہ صلاحیتوں، بروقت خطرات کی آگاہی، زلزلے کے حوالے سے معلومات کے تبادلے اور امدادی سامان کی ترسیل میں تعاون جیسے علاقائی اقدامات کی منظوری دی گئی۔
ترکیہ کی جانب سے علاقائی زلزلہ جاتی ڈیٹا سینٹر کے قیام کی پیشکش کا خیرمقدم کیا گیا۔اختتامی تقریب میں وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ای سی او وزارتی اجلاس کی صدارت چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے کی۔اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان این ای او سی کے ذریعے ای سی او ممالک کو تکنیکی معاونت فراہم کرنے کے لئے تیارہے۔ چیئرمین این ڈی ایم اے کا کہناتھا کہ اسلام آباد اعلامیہ ای سی او ممالک کے عوام کے تحفظ کا مشترکہ عزم ہے۔
اجلاس میں یو این ای ایس سی اے پی، اے پی ڈی آئی ایم اور یونیسف کے ساتھ تعاون کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق کیا گیا جبکہ ای سی او–یونیسف مشترکہ منصوبے کے تحت بچوں کے لئے آفات سے آگاہی پر مبنی کارٹون ویڈیو کے اجراء کو سراہا گیا۔ این ڈی ایم اے پاکستان کی جانب سے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (این ای او سی ) کو ای سی او کے لئے علاقائی مرکز کے طور پر استعمال کرنے کی پیشکش کا خیرمقدم کیا گیا جس کے تحت مشترکہ تربیتی مشقوں، فرضی مشقوں اور پیشگی اقدامات کے لئے انتظامی ماڈلز کو فروغ دیا جائے گا۔
اسلام آباد اعلامیہ کے ذریعے ای سی او رکن ممالک نے آفات اور موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے نمٹنے اور عوام بالخصو ص خواتین، نوجوانوں لڑکیوں، معذور افراد اور دیگر کمزور طبقات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے جامع اور حکومتی و سماجی اشتراک پر مبنی اقدامات کے عزم کا اعادہ کیا۔ اجلاس میں ای سی او سیکرٹریٹ کے ذریعے عملدرآمد کے مؤثر نظام اور پیشرفت کے باقاعدہ جائزے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
اختتام پر شرکاء نے حکومتِ پاکستان اور این ڈی ایم اے کی بہترین میزبانی اور انتظامات کو سراہا۔ 10ویں ای سی او وزارتی اجلاس کا اختتام خطے میں آفات سے نمٹنے کے لئے مشترکہ منصوبوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے کے نئے عزم کے ساتھ ہوا۔








