دہشتگردی عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین چیلنج بن چکی،عالمی برادری اس کے خاتمے کے لیے موثر کردار ادا کرے،چین

اقوام متحدہ ۔5فروری (اے پی پی):چین نے دہشت گردی کے خلاف مؤثر اور مربوط عالمی کوششوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ دہشتگردی کے خطرات دن بہ دن پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں جو عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین چیلنج ہیں۔شنہوا کے مطابق یہ بات اقوامِ متحدہ میں چین کے نائب مستقل مندوب سن لی نےسلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے …

اقوام متحدہ ۔5فروری (اے پی پی):چین نے دہشت گردی کے خلاف مؤثر اور مربوط عالمی کوششوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ دہشتگردی کے خطرات دن بہ دن پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں جو عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین چیلنج ہیں۔شنہوا کے مطابق یہ بات اقوامِ متحدہ میں چین کے نائب مستقل مندوب سن لی نےسلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو مشترکہ و جامع تعاون پر مبنی اور پائیدار سلامتی کے تصور کو اپنانا ہوگا ، دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی برقرار رکھنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دوہرے معیار اور انتخابی رویوں کی سختی سے مخالفت کی جانی چاہیے۔چینی مندوب نے افغانستان کے حکام پر زور دیا کہ وہ وہاں موجود دہشت گرد عناصر کے خلاف ٹھوس اور مؤثر اقدامات کریں تاکہ ملک دوبارہ دہشت گردوں کا گڑھ نہ بن سکے۔

انہوں نے کہا کہ شام میں سکیورٹی کی صورتحال بدستور نازک ہے اور انسدادِ دہشت گردی کا کام بدستور ایک بڑا چیلنج ہے۔ سن لی نے اس بات پر زور دیا کہ شامی سرزمین کو دوسرے ممالک کے خلاف دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکا جانا چاہیے، عبوری شامی حکومت کو چاہیے کہ وہ داعش، ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ اور سلامتی کونسل میں درج تمام دہشت گرد تنظیموں کے خلاف مؤثر کارروائی کرے۔

چین نے اس بات کی نشاندہی بھی کی کہ افریقا عالمی انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں میں ایک اہم خطہ بن چکا ہے، عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ افریقی ممالک کو مالی وسائل، ٹیکنالوجی، آلات اور انٹیلی جنس کے شعبوں میں مزید مدد فراہم کرے، ساتھ ہی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ افریقا میں تنازعات کے سیاسی حل کو آگے بڑھایا جائے تاکہ دہشت گرد گروہوں کے لیے سرگرمیوں کی گنجائش کم کی جا سکے۔

سن لی نے کہا کہ چین دہشت گردی کی ہر شکل کے خلاف تمام فریقوں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھنے کے لیے تیار ہے تاکہ دیرپا امن اور مشترکہ سلامتی پر مبنی دنیا کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کر سکے۔

مزید خبریں