پشاور۔ 05 مارچ (اے پی پی):گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ دہشت گردی اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے خلاف مؤثر اقدامات کے لیے پارلیمنٹ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سول سوسائٹی کے درمیان مضبوط تعاون ناگزیر ہے، خیبر پختونخوا دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جنگ میں صفِ اول کا کردار ادا کرتا رہا ہے، یہاں کے عوام، پولیس اور سکیورٹی فورسز نے …
دہشت گردی اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے خلاف مؤثر اقدامات کےلیے مضبوط تعاون ناگزیر ہے، گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی

مزید خبریں
پشاور۔ 05 مارچ (اے پی پی):گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ دہشت گردی اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے خلاف مؤثر اقدامات کے لیے پارلیمنٹ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سول سوسائٹی کے درمیان مضبوط تعاون ناگزیر ہے، خیبر پختونخوا دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جنگ میں صفِ اول کا کردار ادا کرتا رہا ہے، یہاں کے عوام، پولیس اور سکیورٹی فورسز نے قیامِ امن کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور کے ایک مقامی ہوٹل میں سسٹینبل سوشل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (ایس ایس ڈی او) کے زیر اہتمام منعقدہ صوبائی مکالمے “کاؤنٹر ٹیررازم اور ٹیررسٹ فنانسنگ کے خلاف پارلیمانی کردار اور ادارہ جاتی صلاحیتوں میں اضافہ” کے عنوان سے مکالمے کے سیشن سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مکالمے کے سیشن میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایس ایس ڈی او سید کوثر عباس، پارلیمنٹیرینز، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندوں، سول سوسائٹی، ماہرین تعلیم اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
گورنر نے دہشتگردی سے متاثرہ صوبہ کی دارالحکومت پشاور میں اہم موضوع پر مکالمے کے انعقاد پر ایس ایس ڈی او اور برٹش ہائی کمیشن کے مشترکہ تعاون کو سراہا. گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے تدارک کے لیے مضبوط قانونی اور ادارہ جاتی فریم ورک تشکیل دیا ہے، تاہم ان پالیسیوں پر مؤثر عملدرآمد کے لیے صوبائی اداروں کا کردار بھی نہایت اہم ہے. انہوں نے کہا کہ بالخصوص خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے منتخب نمائندوں کو مؤثر قانون سازی، پالیسی سازی اور نگرانی کے عمل میں فعال کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ انسداد دہشت گردی کی کوششیں جمہوری اصولوں اور قانون کی حکمرانی کے مطابق آگے بڑھ سکیں۔
گورنر نے کہا کہ دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خاتمے کےلیے صرف سکیورٹی اقدامات کافی نہیں بلکہ اس کے لیے تعلیم، کمیونٹی کی شمولیت، سماجی آگاہی اور جامع ترقی کے ذریعے انتہاپسندی کی بنیادی وجوہات کا خاتمہ بھی ضروری ہے. گورنر نے امید ظاہر کی کہ اس مکالمے سے سامنے آنے والی سفارشات پالیسی سازی، ادارہ جاتی رابطوں کے فروغ اور صوبے میں پائیدار امن و استحکام کے قیام کےلیے مفید ثابت ہوں گی. گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ سب کو مل کر ایک پُرامن، محفوظ اور خوشحال خیبر پختونخوا اور پاکستان کی تعمیر کے لیے کام کرنا ہوگا.








