اقوام متحدہ۔15جولائی (اے پی پی):پاکستان نے اقوام متحدہ میں انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے گروہوں کی طرف سے درپیش دہشت گردی کے نئے خطرات سے خبردار کیا ہےاوراس بات پر زور دیا ہے کہ انسداد دہشت گردی کے اقدامات کا انسانی حقوق کو نقصان پہنچانے ، خاص طور پر حل نہ ہونے والے تنازعات، غیر ملکی قبضے اور حق خود ارادیت کے حصول کی کوششوں کے لیے غلط …
دہشت گردی کی روک تھام کے لیے طویل عرصہ سے حل طلب تنازعات، غیر ملکی قبضے اور حق خودارادیت سے انکار کے حالات سے نمٹنے کی ضرورت ہے، پاکستان
اقوام متحدہ۔15جولائی (اے پی پی):پاکستان نے اقوام متحدہ میں انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے گروہوں کی طرف سے درپیش دہشت گردی کے نئے خطرات سے خبردار کیا ہےاوراس بات پر زور دیا ہے کہ انسداد دہشت گردی کے اقدامات کا انسانی حقوق کو نقصان پہنچانے ، خاص طور پر حل نہ ہونے والے تنازعات، غیر ملکی قبضے اور حق خود ارادیت کے حصول کی کوششوں کے لیے غلط استعمال نہ کیا جائے ۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب عامر خان نے گزشتہ روز اقوام متحدہ کے انسداددہت گردی کے دفتر (یو این او سی ٹی) کی جانب سے منعقدہ سہ ماہی بریفنگ کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کا خطرہ نائن الیون کے بعد سے نظریاتی اور جغرافیائی لحاظ سے تبدیلیا ں آئیں ۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ تاریخ اس ناقابل تردید حقیقت کی گواہی دیتی ہے کہ لوگوں کے حق خودارادیت کو دبانےسے تشدد اور تنازعات میں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی آنے والی رپورٹ انتہائی دائیں بازو کے گروہوں کی طرف سے لاحق دہشت گردی کے نئے خطرات کے ساتھ ساتھ زینو فوبیا ( غیر ملکیوں سے نفرت) ، نسل پرستی اور عدم برداشت کی دیگر اقسام کی بنیاد پر ہونے والے حملوں کا بھی ازالہ کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں دہشت گردی کی بنیادی وجوہات کی روک تھام کے لیے طویل حل طلب تنازعات، غیر ملکی قبضے اور حق خودارادیت سے انکار کے حالات سے نمٹنے کی ضرورت ہے کیونکہ جارحیت کا ارتکاب کرنے والی ، نوآبادیاتی نظام پر عمل پیرا اور قابض اقوام اکثر حق خودارادیت کے حصول کے لئے جدو جہد کو دہشت گردی قرار دے کر اپنے طرز عمل کا جواز فراہم کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے انسانی حقوق اور بنیادی آزادی کے فروغ اور تحفظ سے متعلق انسانی حقوق کونسل کے خصوصی نمائندے کی کوششوں کا خیرمقدم کیا، جو غیر ملکی قبضے کے حالات میں حق خودارادیت کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔پاکستانی مندوب نےاس بات پر زور دیا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیوں کے نظام کی شفافیت کو بڑھانے ، عالمی انسداد دہشت گردی کے ڈھانچے ، معیار کی تعمیر میں خامیوں کو دور کرنے اور سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے ۔
پاکستان نے رکن ممالک کی استعداد کار میں اضافے کی اہمیت کا بھی اعادہ کیا تاکہ وہ دہشت گردی کی روک تھام اور اس سے نمٹنے کے لیے اپنی ذمہ داریوں پر عمل درآمد کر سکیں۔ پاکستانی مندوب نے اقوام متحدہ کے انسداد دہشت گردی کے دفتر (یو این او سی ٹی ) اور اقوام متحدہ کی متعلقہ ایجنسیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کو مضبوط بنانے میں مشترکہ کوششوں کو فروغ دینے کے لیے تعاون کو تیز کرنے، تکنیکی مدد اور ٹیکنالوجی کی منتقلی اور معلومات کے تبادلے کی حوصلہ افزائی کرے۔









