ذہنی بیماریوں کے علاج تک رسائی میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کی ضرورت ہے، سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ

ذہنی بیماریوں کے علاج تک رسائی میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کی ضرورت ہے، سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ

اقوام متحدہ۔10اکتوبر (اے پی پی): اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے کہا ہے کہ ذہنی و نفسیاتی صحت کی خراب حالت کے شکار ہر 4میں سے 3 افراد کو علاج کی مناسب سہولیات فراہم نہیں ہیں یا ان تک بالکل بھی رسائی حاصل نہیں ہے ۔

انہوں نے ممالک پر زور دیا کہ وہ ذہنی صحت سے متعلق علاج کی سہولیات تک رسائی میں حائل رکاوٹوں کو دور کریں ۔ انہوں نے ذہنی صحت کے عالمی دن پر اپنے پیغام میں زور دیا کہ لوگوں کے لیے ذہنی صحت بہت ضروری ہے جو ہمیں بھرپور زندگی گزارنے اور معاشرے مثبت کردار ادا کرنے کی اجازت دیتی ہے۔

اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ عالمی سطح پر 8میں سے ایک شخص خراب ذہنی صحت سے دوچار ہے، جس میں خواتین اور نوجوان سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر (او ایچ سی ایچ آر) نے ذہنی صحت، انسانی حقوق اور قانون سازی بارے ہدایات جاری کیں۔’’ذہنی صحت، انسانی حقوق اور قانون سازی: رہنمائی اور عمل‘‘ کا مقصد انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے اور معیاری ذہنی صحت کی دیکھ بھال تک رسائی کو فروغ دینے کے لیے قانون سازی میں اصلاحات بارے ممالک کی مدد کرنا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہینوم گیبریئس نے کہا کہ اس نئے نقطہ نظر کے کلیدی عناصر میں لوگوں کے وقار کا احترام کرنا اور انہیں مکمل اور صحت مند زندگی گزارنے کے لیے بااختیار بنانا شامل ہے۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر وولکر ترک نے کہا کہ اچھی ذہنی صحت کے عزائم کا مقصد ذہنی صحت کی سہولیات کی فراہمی کے حقوق پر مبنی طریقہ اختیار کرنا بھی ہونا چاہیے۔

اقوام متحدہ نے کہا کہ ذہنی صحت لوگوں اور کمیونٹیز کے لیے عالمی انسانی حق ہے اور ذہنی صحت کا عالمی دن اس تھیم کے تحت متحد ہونے کا ایک موقع ہے جوعلم کو بہتر بنانے، شعور اجاگر کرنے اور ہر فرد کی ذہنی صحت کو بنیادی انسانی حق کے طور پر فروغ اور تحفظ فراہم کرتا ہے۔