راکٹ کی واپسی: حمزہ آصف نے پاکستان کی طویل خاموش اولمپک تیراکی کی امید پھر جگا دی

اسلام آباد۔12دسمبر (اے پی پی):پاکستان کے ابھرتے ہوئے تیراک حمزہ آصف نے 35ویں نیشنل گیمز کراچی میں شاندار اور ریکارڈ ساز کارکردگی دکھاتے ہوئے ملک کے تیز ترین تیراک ہونے کا اعزاز اپنے نام کر لیا ہے، ان کی اس غیر معمولی کارکردگی نے پاکستان کی ایل اے 2028 اولمپکس میں تیراکی کے لئے درکار ممکنہ کوالیفکیشن کی امید ایک بار پھر زندہ کر دی ہے، وہ امید جو کئی …

اسلام آباد۔12دسمبر (اے پی پی):پاکستان کے ابھرتے ہوئے تیراک حمزہ آصف نے 35ویں نیشنل گیمز کراچی میں شاندار اور ریکارڈ ساز کارکردگی دکھاتے ہوئے ملک کے تیز ترین تیراک ہونے کا اعزاز اپنے نام کر لیا ہے، ان کی اس غیر معمولی کارکردگی نے پاکستان کی ایل اے 2028 اولمپکس میں تیراکی کے لئے درکار ممکنہ کوالیفکیشن کی امید ایک بار پھر زندہ کر دی ہے، وہ امید جو کئی دہائیوں سے خاموش پڑی تھی۔19 سالہ حمزہ نے تیراکی کا سفر فیصل آباد کے چناب کلب سے ایک کم عمر ٹرینی کے طور پر شروع کیا۔ اس ایونٹ میں انہوں نے تین طلائی تمغے، ایک چاندی کا تمغہ جیتا اور 50 میٹر بریسٹ سٹروک میں نیا قومی ریکارڈ قائم کیا۔

ان کی برق رفتار کامیابیوں نے قدرتی طور پر ان کا تقابل پاکستان کے سابق اولمپئن تیراک افتخار احمد شاہ سے شروع کر دیا جو 1948 کے لندن اولمپکس میں ملک کی نمائندگی کر چکے ہیں، یعنی بالکل اسی سے 80 سال بعد جب 2028 میں حمزہ اولمپکس میں حصہ لینے کا ہدف رکھتے ہیں۔ حمزہ کا سفر پاکستان کے روایتی مقابلہ جاتی مراکز سے دور شروع ہوا۔ فیصل آباد میں 50 میٹر کا کوئی ٹریننگ پول نہ ہونے کے باعث ان کے نانا ،نانی روزانہ صبح سویرے انہیں پریکٹس کیلئے لے کر جاتے جبکہ ان کی والدہ ابتدائی تربیت کے دوران سوئمنگ پول کے کنارے نگرانی کرتی رہتیں، ان کی بنیادی کوچنگ چناب کلب میں عمران نذیر نے کی، جنہوں نے سب سے پہلے حمزہ کی فطری صلاحیت کو پہچانا۔

اس سال نیشنل گیمز میں حمزہ نے حالیہ برسوں کی سب سے متاثرکن پرفارمنس دکھائی۔ 100 میٹر فری سٹائل میں گولڈ، 50 میٹر فری سٹائل میں گولڈ (23.65 سیکنڈ)، 50 میٹر بریسٹ سٹروک میں گولڈ، 50 میٹر بٹر فلائی میں سلور اور 50 میٹر بریسٹ سٹروک میں 29.99 سیکنڈ کا وقت لے کر حمزہ پاکستان کی تاریخ میں اس ایونٹ کو 30 سیکنڈ سے کم وقت میں مکمل کرنے والے پہلے تیراک بن گئے۔حمزہ کی تیز رفتار ترقی کے پیچھے منظم ادارہ جاتی سپورٹ موجود ہے جس میں سب سے نمایاں کردارایکٹیو کا ہے, جو لاہور میں قائم ایک کھیلوں کی سائنس اور پرفارمنس آرگنائزیشن ہے جس کی سربراہی رضوان آفتاب احمد کرتے ہیں۔

وہ ایکٹو کے سی ای او اور نیشنل ہسپتال لاہور کے ڈائریکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ اولمپئن افتخار احمد شاہ کے نواسے بھی ہیں۔ حمزہ کی کامیابیوں میں ان کی ذاتی دلچسپی نے اس رشتے کو مزید مضبوط بنا دیا ہے جبکہ تینوں شخصیات کا تعلق ایچی سن کالج لاہور سے ہونے کی وجہ سے یہ روایت اور بھی شان دار ہو گئی ہے،وہ ادارہ جو پاکستان کو کئی عظیم کھلاڑی دے چکا ہے۔ایکٹیو کے پلیٹ فارم کے تحت حمزہ کو ایڈوانس ڈائیگناسٹکس، اسپورٹس میڈیکل سپرویژن، غذائی منصوبہ بندی، سپلیمنٹیشن، اسٹرینتھ اینڈ کنڈیشننگ پروٹوکولز اور باقاعدہ پرفارمنس ٹریکنگ کی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔ رضوان خود حمزہ کے میٹابولک اسیسمنٹ اور ڈائیٹ پلان کی نگرانی کرتے ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ ایکٹیوصرف ایک اسپانسر نہیں بلکہ طویل المدتی پرفارمنس پارٹنر ہے۔

حمزہ کی ترقی میں بی اے آر ڈی فاؤنڈیشن بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے جس نے انہیں نوجوانی میں ہی پہچان لیا اور ان کی بین الاقوامی تربیت کے اخراجات برداشت کئے۔ انہی کے تعاون سے حمزہ تھائی لینڈ میں ہائی پرفارمنس تربیتی کیمپوں میں شریک ہوئے، جنہیں وہ اپنی ٹیکنیک میں نکھار اور مقابلہ جاتی پختگی کا سبب قرار دیتے ہیں۔ ان کی بین الاقوامی تربیت نے امریکا کی یونیورسٹی آف ٹینیسی سدرن میں ان کی بھرتی کی راہ ہموار کی، جہاں وہ اب یو ٹی ایس فائر ہاواکس پروگرام کے تحت تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ امریکی کالجیٹ سرکٹ میں مقابلہ کرتے ہوئے انہیں عالمی معیار کے سوئمنگ پولز، پیشہ ور کوچنگ اور اعلیٰ درجے کے بین الاقوامی تیراکوں کا سامنا کرنے کا مسلسل موقع مل رہا ہے۔

حمزہ کی پیش رفت نے اس لیے بھی دلچسپی پیدا کی ہے کہ ان کا سفر اولمپئن افتخار احمد شاہ سے ملتا جلتا دکھائی دیتا ہے جنہوں نے بھی اپنی تربیت ایچی سن کالج سے حاصل کی تھی۔ ایکٹیو کی شمولیت نے ماضی اور حال کی اس کہانی کو مزید مربوط بنا دیا ہے, پاکستان کی اولمپک تاریخ کو اس کی اگلی قابلِ اعتماد امید سے جوڑتے ہوئے۔نیشنل گیمز میں شاندار کارکردگی کے بعد حمزہ نے واضح کیا، میرا ہدف LA 2028 ہے اور اب ہر مقابلہ اسی تیاری کا حصہ ہے۔ان کے والد نے بڑھتی ہوئی توقعات کے حوالے سے کہا کہ ہم محنت کرتے ہیں، باقی اللہ کے سپرد کرتے ہیں، پورے ملک کو امید ہے کہ حمزہ آصف مزید سخت محنت سے اپنے خواب کو حقیقت میں بدلیں گے اور 2028 کے لاس اینجلس اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔