اسلام آباد ۔ 14 فروری (اے پی پی) سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے ترک صدر رجب طیب اردوان کا پارلیمنٹ میں پاکستان کے عوام اور منتخب نمائندوں کی جانب سے خیرمقدم کرتے ہوئے مشترکہ اجلاس سے ان کے خطاب کو تاریخی موقع قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ترک صدر نے مرد مجاہد کی طرح انتہائی دلیری اور بے باکی سے کشمیریوں کی ترجمانی کی ہے جس پر یہ …
رجب طیب اردوان اہلِ پاکستان کے سچے دوست اور قابل اعتماد بھائی، موجودہ اسلامی دنیا کے حقیقی رہنما اور دانشور ہیں سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا ترک صدر کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے موقع پر خطبہ استقبالیہ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 14 فروری (اے پی پی) سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے ترک صدر رجب طیب اردوان کا پارلیمنٹ میں پاکستان کے عوام اور منتخب نمائندوں کی جانب سے خیرمقدم کرتے ہوئے مشترکہ اجلاس سے ان کے خطاب کو تاریخی موقع قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ترک صدر نے مرد مجاہد کی طرح انتہائی دلیری اور بے باکی سے کشمیریوں کی ترجمانی کی ہے جس پر یہ ایوان، اہلِ کشمیر اور اہل پاکستان آپ کو اور آپ کی قوم کو سلام پیش کرتے ہیں۔ جمعہ کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے موقع پر اپنے خطبہ استقبالیہ میں کہا کہ ان کے لئے یہ انتہائی اعزاز کا مقام ہے کہ وہ اِس معزز ایوان کو ایک ایسی تاریخ ساز شخصیت سے متعارف کرا رہے ہیں جو نہ صرف اہلِ پاکستان کے سچے دوست اور قابل اعتماد بھائی ہیں بلکہ موجودہ اسلامی دنیا کے حقیقی رہنما اور دانشور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 22 کروڑ غیور اور پْرعزم اہلِ پاکستان کا یہ منتخب اور نمائندہ ایوان ترک صدر کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہتا ہے، اِس ایوان کو ماضی میں بھی ترک صدر کے خیالات سننے کا اعزاز حاصل رہا ہے اور ہم آج بھی منتظر ہیں کہ بدلتے ہوئے بین الاقوامی منظر نامے میں اہل اسلام کے بہادر اور باوقار فرزند کے افکار سے استفادہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ طیب اردوان اس عظیم ترک قوم کے نمائندہ ہیں جس سے مسلمانانِ برصغیر کی جذباتی وابستگی دونوں ممالکتوں کے قیام سے پہلے کی داستان ہے، ہمارے آبائو اجداد پہلی جنگِ عظیم کے بعد ترکی کے مفادات پر آنے والی زد کے خلاف تحریکِ خلافت کے پرچم تلے متحد ہوئے اور ترکوں کے دفاع کو اپنا نصب العین بنایا۔ انہوں نے کہا کہ درحقیقت یہی تحریکِ خلافت تحریکِ پاکستان کا نقطہِ آغاز تھی کیونکہ قومی اہمیت اور وقار کا درس برصغیر کے مسلمانوں کو اِسی تحریک خلافت سے ملا جو بالاخر قیامِ پاکستان کی صورت میں دنیا کے سامنے آشکار ہوا۔ اسپیکر نے کہا کہ سو اگر میں یہ کہوں تو غلط نہیں ہو گا کہ اہلِ پاکستان کے دل ترک قوم کے ساتھ دھڑکتے ہیں، ہماری تاریخ مشترک ہے، ہمارا مذہب ایک ہے اور ہمارے ثقافتی و تہذیبی رشتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترک صدر کا موجودہ دورہ پاکستان ایک ایسے موقع پر ہو رہا ہے جب دنیا میں جنگ اور بدامنی کے گہرے بادل منڈلا رہے ہیں اور عالمی دہشت گردی کی ستائی مسلم آبادیوں کو اسلامو فوبیہ جیسی حقارت آمیز مذہبی منافرت کا سامنا بھی ہے۔ سپیکر نے کہا کہ آپ بخوبی آگاہ ہیں کہ گذشتہ سال اگست میں بھارت نے جس انداز سے خود اپنے ہی آئین کو پامال کر کے کشمیر کو اپنی نوآبادی میں تبدیل کیا، مہذب دنیا میں اِس کی مثال نہیں ملتی۔ مودی سرکار کے اِن ظالمانہ اقدامات کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ مظلوم کشمیری ہر طرح کے انسانی حقوق سے محروم کر دیئے گئے بلکہ کشمیر نے ایک نیا عالمی ریکارڈ بھی قائم کر دیا کہ گزشتہ چھ ماہ سے اس خطہ میں مسلسل کرفیو نافذ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان حالات میں جس مردِ مجاہد نے انتہائی دلیری اور بے باکی سے کشمیریوں کی ترجمانی کی ہے وہ آپ کی ذاتِ گرامی ہے، اِس مسئلہ پر آپ کے دو ٹوک موقف پر یہ ایوان ، اہلِ کشمیر اور اہل پاکستان آپ کو اور آپ کی قوم کو سلام پیش کرتے ہیں۔ فی زمانہ ہم امید رکھتے ہیں کہ آپ کا موجودہ دورہ دونوں ملکوں کے تعلقات کو نئی جہت عطا کرے گا اور ہمارے درمیان اقتصادی اور معاشی تعاون کی بھی نئی راہیں کھولے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایوان اِن تمام امور پر آپ کا اظہارِ خیال سننے کا مشتاق ہے، مجھے امید ہے کہ آپ کی فہم و فراست اور استدلال اِس ایوان کو نئی اور کامیاب حکمتِ عملی سے آشنا کروائے گا۔
kbf-zaa-msf-tar/jav/yas/riz 1301








