میڈرڈ۔30دسمبر (اے پی پی):رواں برس سپین پہنچنے کی کوشش کے دوران تین ہزار سے زیادہ تارکین وطن ہلاک ہوئے۔ اردو نیوز کے مطابق یہ بات سپین کے مہاجرین کے حقوق کے گروپ واکنگ بارڈرز کی حالیہ رپورٹ میں بتائی گئی۔واکنگ بارڈرز کا کہنا ہے کہ2025 کے دوران اموات کی تعداد میں 2024 کے مقابلے میں نمایاں کمی ہوئی کیونکہ سپین پہنچنے کی کوشش کرنے والوں کی تعداد کم ہوئی ہے۔ …
رواں سال سپین پہنچنے کی کوشش میں تین ہزار تارکین وطن ہلاک ہوئے، رپورٹ

مزید خبریں
میڈرڈ۔30دسمبر (اے پی پی):رواں برس سپین پہنچنے کی کوشش کے دوران تین ہزار سے زیادہ تارکین وطن ہلاک ہوئے۔ اردو نیوز کے مطابق یہ بات سپین کے مہاجرین کے حقوق کے گروپ واکنگ بارڈرز کی حالیہ رپورٹ میں بتائی گئی۔واکنگ بارڈرز کا کہنا ہے کہ2025 کے دوران اموات کی تعداد میں 2024 کے مقابلے میں نمایاں کمی ہوئی کیونکہ سپین پہنچنے کی کوشش کرنے والوں کی تعداد کم ہوئی ہے۔
گروپ کے کارکن کامیناندو فرونتیراس نے کہا کہ 15 دسمبر تک ریکارڈ ہونے والی تین ہزار 90 اموات میں سے زیادہ تر افریقا سے سپین کے کینری جزائر تک اٹلانٹک مہاجرت کے راستے پر ہوئیں جو دنیا کے سب سے خطرناک راستوں میں سے ہے، ہلاک ہونے والوں میں 437 بچے اور 192 خواتین شامل تھیں۔ کامیناندو فرونتیراس نے کہا کہ الجزائر سے روانہ ہونے والی کشتیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے بالخصوص بحیرہ روم میں چھٹیوں کے جزائر ایبیزا اور فورمینٹیرا کی طرف،روایتی طور پر یہ راستہ الجزائرین استعمال کرتے تھے لیکن رواں سال اس راستے پر صومالیہ، سوڈان اور جنوبی سوڈان کے تارکین وطن میں اضافہ دیکھا گیا ،اس راستے پر اموات کی تعداد اس سال دگنی ہو کر ایک ہزار 37 تک پہنچ گئی۔
کامیناندو فرونتیراس کے مطابق کم از کم 10,457 تارکین وطن 2024 میں سپین پہنچنے کی کوشش میں ہلاک یا لاپتہ ہوئے، یہ سب سے زیادہ ریکارڈ شدہ تعداد ہے۔








