زیورخ۔6دسمبر (اے پی پی):رواں سال کے دوران قدرتی آفات سے عالمی سطح پر ہونے والے نقصانات کا تخمینہ 310 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ زیورخ میں قائم سوئزرلینڈ کی ری انشورنس کمپنی کی طرف سے جاری رپورٹ کے مطابق2024 میں ہونے والے قدرتی آفات سے ہونے والے معاشی نقصانات کے تخمینے 2023 کے مقابلے میں چھ فیصد زیادہ ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بیمہ شدہ نقصانات سالانہ بنیاد پر 17 فیصد …
رواں سال کے دوران قدرتی آفات سے 310 ارب ڈالر کا نقصانات ہوئے، سوئس ادارے کی رپورٹ

مزید خبریں
زیورخ۔6دسمبر (اے پی پی):رواں سال کے دوران قدرتی آفات سے عالمی سطح پر ہونے والے نقصانات کا تخمینہ 310 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ زیورخ میں قائم سوئزرلینڈ کی ری انشورنس کمپنی کی طرف سے جاری رپورٹ کے مطابق2024 میں ہونے والے قدرتی آفات سے ہونے والے معاشی نقصانات کے تخمینے 2023 کے مقابلے میں چھ فیصد زیادہ ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بیمہ شدہ نقصانات سالانہ بنیاد پر 17 فیصد بڑھ کر 135 بلین ڈالر تک پہنچ گئے جس میں بڑا کردار امریکا میں آنے والے تباہ کن سمندری طوفان ہیلین اور ملٹن اور یورپ میں آنے والے شدید سیلاب سے ہونے والی تباہی کا ہے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ پانچ سال کے دوران بیمہ شدہ نقصانات 100 بلین ڈالر سے زیادہ رہے ہیں۔ سوئس ری، جو انشورنس کمپنیوں کے بیمہ کنندہ کے طور پر کام کرتا ہے، نے ماحولیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات کو کم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ رواں سال کو زمین کی ریکارڈ شدہ تاریخ میں گرم ترین سال قرار دیا جائے گا۔سوئس ری نے خاص طور پر 2024 میں سیلاب کی انشورنس لاگت میں اضافے پر روشنی ڈالی، جو کہ دنیا بھر میں نقصانات کے حوالے سے تیسرا مہنگا سال اور یورپ میں دوسرا مہنگا ترین سال تھا۔سوئس ری کے مطابق صرف یورپ میں شدید سیلاب سے اس سال تقریباً 10 بلین ڈالر کے بیمہ شدہ نقصانات ہوئے ۔
اسی طرح رواں سال کےد وران خلیجی خطے میں بھی سیلابوں سے نقصانات ریکارڈ کئے گئے اور خاص طور پر دنیا کے مصروف ترین بین الاقوامی مرکز دبئی ایئرپورٹ پر آپریشنز کو متاثر کیا۔امریکا میں اس سال سب سے زیادہ بیمہ شدہ نقصانات ریکارڈ کئے گئے جو سمندری طوفان ہیلین اور ملٹن سے تباہی کا نتیجہ تھے۔








