روسی اور شامی فورسز کی کارروائیوں کے باعث ادلب میں 4 لاکھ افراد بے گھرہوئے،اقوام متحدہ

واشنگٹن۔ 17جنوری(اے پی پی)اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ گزشتہ دسمبر کے شروع میں شام میں حزب مخالف کے زیر کنٹرول صوبہ ادلب میں روسی پشت پناہی میںکی جانے والی کارروائی کے دوران تقریباً ساڑھے تین لاکھ شامی افراد کو، جن میں زیادہ تعداد خواتین اور بچوں کی ہے، جان بچانے کے لیے اپنا گھر بار چھوڑ کر جانا پڑا۔بے گھر ہونے والے زیادہ تر افراد نے ترکی کے قریب …

واشنگٹن۔ 17جنوری(اے پی پی)اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ گزشتہ دسمبر کے شروع میں شام میں حزب مخالف کے زیر کنٹرول صوبہ ادلب میں روسی پشت پناہی میںکی جانے والی کارروائی کے دوران تقریباً ساڑھے تین لاکھ شامی افراد کو، جن میں زیادہ تعداد خواتین اور بچوں کی ہے، جان بچانے کے لیے اپنا گھر بار چھوڑ کر جانا پڑا۔بے گھر ہونے والے زیادہ تر افراد نے ترکی کے قریب سرحدی علاقوں میں پناہ لی ہے۔امریکی نشریاتی ادارے کے مطاب انسانی ہمدردی کے لیے کام کرنے والے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر نے بتایا ہے کہ بگڑتی ہوئی مخاصمانہ صورت حال کے نتیجے میں انسانی بہبود کی سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔حالیہ ہفتوں کے دوران، روسی جنگی طیاروں اور شامی گولہ باری کے نتیجے میں قصبے اور دیہات زد میں آئے ہیں۔ قائم اقوام متحدہ کے علاقائی دفتر کے ترجمان، ڈیوڈ سوانسن نے بتایا کہ نے دخل ہونے والوں کی اس تازہ ترین کھیپ کے بعد ادلب میں انسانی ہمدردی کا کام مشکل تر ہو گیا ہے۔عالمی ادارے کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ بے دخل ہونے والے ان افراد کی اس نئی کھیپ کے بعد متاثرین کی کل تعداد چار لاکھ ہو چکی ہے، جو اس سے قبل پناہ لینے کے لیے ترکی کی سرحد کے قریب خیمہ بستی کی طرف چلے گئے تھے۔