روسی ایمرجنسی سروسز و ڈزاسٹر کے اعلی سطحی وفد کا ریسکیو 1122 ہیڈکوارٹرز اور اکیڈمی کا دورہ،ڈاکٹر رضوان نصیر کی وفد کوبریفنگ
روسی ایمرجنسی سروسز و ڈزاسٹر کے اعلی سطحی وفد کا ریسکیو 1122 ہیڈکوارٹرز اور اکیڈمی کا دورہ،ڈاکٹر رضوان نصیر کی وفد کوبریفنگ

مزید خبریں
لاہور۔21اکتوبر (اے پی پی):روس کے ایمرجنسی سروسز و ڈزاسٹر(EMERCOM)کے اعلی سطحی وفد نے ڈائریکٹر شعب بین الاقوامی تعاون ملنک دمیتری نکولائیوچ کی قیادت میں بدھ کو ایمرجنسی سروسز ہیڈکوارٹرز اور ایمرجنسی سروسز اکیڈمی، لاہور کا دورہ کیا۔ دورے کا مقصد پنجاب ایمرجنسی سروس (ریسکیو) 1122 کے عملی نظام، مربوط ایمرجنسی رسپانس سسٹم، ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی صلاحیتوں اور خصوصی تربیتی سہولیات کا مشاہدہ کے ساتھ ایمرجنسی مینجمنٹ اور ریسکیو آپریشنز کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون اور پیشہ ورانہ مہارتوں کے تبادلے کے امکانات کا جائزہ لینا تھا۔دورے کے دوران روسی وفد نے صوبائی ایمرجنسی آپریشنز سنٹرکا دورہ کیا اور ایمرجنسی کال ڈسپیچ سسٹم، ایمرجنسی رسپانس، آپریشنل کوآرڈینیشن اور ہنگامی وسائل کی بروقت فراہمی کے نظام کے بارے میں آگاہی حاصل کی۔
وفد نے ایمرجنسی مانیٹرنگ اینڈ ریسرچ سنٹرکا بھی دورہ کیا، جہاں اسے تحقیق و ترقی، حادثات کی ریسرچ اور بچا وکی سٹڈیز کے حوالے سے آگاہ کیا گیا۔ ایمرجنسی سروسز اکیڈمی میں وفد نے خصوصی تربیتی سرگرمیوں، عملی مظاہروں اور تربیتی سمیولیٹرز کا مشاہدہ کیا، جن کے ذریعے ریسکیورز کو مختلف نوعیت کی ہنگامی صورتحال سے موثر انداز میں نمٹنے کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ اس دورے سے وفد کو ریسکیو 1122 کے آپریشنل انفراسٹرکچر، جدید تربیتی سہولیات اور ایمرجنسی تیاری و رسپانس کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے عملی طریقہ کار کا مشاہدہ کرنے کا جامع موقع ملا۔سیکرٹری محکمہ ایمرجنسی سروسز اور بانی ریسکیو 1122 ڈاکٹر رضوان نصیر نے روسی وفد کا خیرمقدم کیا اور پنجاب ایمرجنسی سروس کے ارتقائی سفر سے آج تک کی ڈویلپمنٹ پہ روشنی ڈالی۔
انہوں نے بتایا کہ لاہور سے ایمبولینس سروس کے طور پر شروع ہونے والا ادارہ اب پنجاب بھر میں روزمرہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے ایک جامع اور مربوط ایمرجنسی رسپانس سسٹم بن چکا ہے اور ریسکیو 1122 اب تک صوبے بھر میں 2 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ایمرجنسی متاثرین کو سروسز فراہم کر چکا ہے۔ ڈاکٹر رضوان نصیر نے ایمرجنسی سروسز اکیڈمی کے بارے تفصیلا آگاہ کیا، جہاں پاکستان بھر سے آنے والے ایمرجنسی پروفیشنل کو خصوصی تربیت فراہم کی جاتی ہے۔
انہوں نے پاکستان ریسکیو ٹیم (PRT) )کا اقوام متحدہ، سے انسراگ سرٹیفیکیشن کیحوالے سے بھی بریف کیا۔روسی ایمرجنسی سروسز و ڈزاسٹر کے شعبہ بین الاقوامی تعاون کے ڈائریکٹر ملنک دمیتری نکولائیوچ نے روس اور پاکستان کے دیرینہ دوستانہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے 2005 کے تباہ کن زلزلے کے بعد پاکستان میں امدادی کارروائیوں میں روسی ریسکیورز کی شرکت کو دونوں ممالک کے تعاون کی ایک اہم مثال قرار دیا۔ وفد نے مختلف ہنگامی حالات کے دوران روس کی جانب سے فراہم کی جانے والی انسانی امداد اور مشکل وقت میں دیرینہ تعاون و تعلقات کو بھی حوالہ دیا۔
روسی نمائندگان نے امید ظاہر کی کہ EMERCOM اور ریسکیو 1122 کے درمیان مسلسل رابطے اور پیشہ ورانہ تبادلے سے دوطرفہ تعاون، مشترکہ تربیت اور ادارہ جاتی استعدادِ کار بڑھانے کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے خصوصی ریسکیو آپریشنز، فائر فائٹنگ آلات، ایمرجنسی ریسکیو گاڑیوں، کیمیائی ہنگامی حالات سے نمٹنے اور پیشہ ورانہ حفاظتی سامان کے شعبوں میں مہارتوں اور تجربات کے تبادلے کے وسیع امکانات پر بھی زور دیا۔








