ریاستی کنٹرول سے باہر ہتھیاروں کی موجودگی ناقابل قبول ہے،عراق

بغداد۔17جنوری (اے پی پی):عراق نے کہا ہے کہ ریاستی کنٹرول سے باہر ہتھیاروں کی موجودگی ناقابل قبول ہے۔ یہ بات عراقی وزیر خارجہ فواد حسین نے گزشتہ روز کہی۔ العربیہ اردو کے مطابق انہوں نے اسلحے کو جمع کرنے اور جنگ اور امن کے فیصلے کو اپنے ہاتھوں میں محدود کرنے کے حوالے سے حکومت کے موقف کی تجدید کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ بغداد ایران کے ساتھ اتحادی …

بغداد۔17جنوری (اے پی پی):عراق نے کہا ہے کہ ریاستی کنٹرول سے باہر ہتھیاروں کی موجودگی ناقابل قبول ہے۔

یہ بات عراقی وزیر خارجہ فواد حسین نے گزشتہ روز کہی۔ العربیہ اردو کے مطابق انہوں نے اسلحے کو جمع کرنے اور جنگ اور امن کے فیصلے کو اپنے ہاتھوں میں محدود کرنے کے حوالے سے حکومت کے موقف کی تجدید کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ بغداد ایران کے ساتھ اتحادی مسلح دھڑوں کو اپنے ہتھیار ترک کرنے پر راضی کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہیں کہا جارہا ہے کہ وہ سرکاری سکیورٹی فورسز میں شامل ہوجائیں۔

انہوں نے زور دیا کہ ریاست کے کنٹرول سے باہر ہتھیاروں کی موجودگی ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عراق امریکا کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عراق کو شام میں داعش کے بارے میں تشویش ہے۔ جنگ کا فیصلہ کرنے کا حق صرف مسلح افواج کے کمانڈر کو ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عراقی وزیر داخلہ عبدالامیر الشمری نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ جنگ کے فیصلہ کا اختیار مسلح افواج کے کمانڈر کے پاس ہے۔

انہوں نے العربیہ کے ساتھ ایک انٹرویو میں اس بات پر بھی زور دیا کہ وزارت نے اسلحے کو ریاست تک محدود رکھنے کی مہم کے لئے سپریم کمیٹی کے کام کے لیے مراحل اور ایک مدت مقرر کی ہے۔

عراقی وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ وزارت دفاع، داخلہ، انسداد دہشت گردی سروس، اور پاپولر موبیلائزیشن فورسز کے تمام یونٹ مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف کے ماتحت ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حکومت، سیاسی قوتوں اور شہریوں کے درمیان اس بات پر اتفاق ہے کہ ہتھیاروں کو ریاست کے کنٹرول سے باہر نہ رہنے دیا جائے۔

مزید خبریں