زرعی پیداوار میں اضافہ کیلئے تصدیق شدہ بیج کی دستیابی اور کاشتکاری کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہو گا،سرورخاں

فیصل آباد ۔ 21 نومبر (اے پی پی):بڑھتی ہوئی آبادی کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے اور زراعت کو منافع بخش بنانے کیلئے فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ناگزیر ہے جس کیلئے تصدیق شدہ بیج کی دستیابی اور کاشتکاری کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہو گا۔ ان خیالات کا اظہار زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد سرور خاں نے گندم بڑھاؤ مہم کے تحت چک …

فیصل آباد ۔ 21 نومبر (اے پی پی):بڑھتی ہوئی آبادی کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے اور زراعت کو منافع بخش بنانے کیلئے فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ناگزیر ہے جس کیلئے تصدیق شدہ بیج کی دستیابی اور کاشتکاری کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہو گا۔

ان خیالات کا اظہار زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد سرور خاں نے گندم بڑھاؤ مہم کے تحت چک نمبر201رب میں یوم کاشتکاراں کے سلسلہ میں منعقدہ تقریب کے شرکا کے لئے اپنے پیغام میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ بروقت بوائی سے پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے اور فصل بھی صحت مند ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں چھٹے کی بجائے ڈرل سے بوائی کو رواج دینا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ زمین کی زرخیزی کے متعلق مکمل معلومات حاصل کرنے کیلئے مٹی کا تجزیہ لازمی کروائیں تاکہ متناسب کھادوں کے استعمال سے بہترین فصل حاصل کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے زرعی بحالی کیلئے اربوں روپے کے منصوبے شروع کئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پیداواری لاگت میں کمی اور میکانائزیشن کو کھیتوں تک پہنچا کر زرعی خوشحالی کا نیا باب مرتب کرنا ہو گا۔اس موقع پر ڈائریکٹر زراعت ( توسیع )خالد محمود نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے زیادہ رقبے پر گندم کاشت کرنے کیلئے اربوں روپے کا زرعی خصوصی پیکیج متعارف کروایا گیا ہے جس میں انہیں گرین ٹریکٹر، لیزر لینڈ لیولر سمیت دیگر مراعات فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسان کارڈ کی تعداد ساڑھے سات لاکھ کر دی گئی ہے تاکہ کاشتکار آڑھتیوں کے چنگل سے نکلتے ہوئے کسان کارڈ کے ذریعے قرضہ جات پر زرعی مداخل حاصل کر سکیں۔ ڈاکٹر محمد جلال عارف نے کہا کہ زراعت کو اگر سائنسی اصولوں پر استوار کیا جائے تو یہ ایک منافع بخش پیشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں پیداوار میں اضافے اور لاگت میں کمی لانے کیلئے ماہرین کی سفارشات پر عمل کرنا ہو گا۔

ڈاکٹر محمد نوید نے کہا کہ نہری پانی کی کمی اور دیگر عناصر کی وجہ سے ہماری زمین کی صحت دن بدن متاثر ہوتی جا رہی ہے جس کیلئے ہمیں زمینی تجزیہ کروا کر بائیوفرٹیلائزر، زنک، سلفر، پوٹاش کی کمی پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی یونیورسٹی نے زمین کی زرخیزی کو بڑھانے کیلئے بائیوفرٹیلائزر و دیگر مصنوعات تیار کی ہیں جس سے کاشتکاروں کو مستفید ہونا چاہیے۔ ڈپٹی ڈائریکٹرایگریکلچر ایکسٹینشن حافظ عدیل نے کہا کہ گندم بڑھاؤ مہم ایک قابل تحسین قدم ہے جس میں زرعی یونیورسٹی کے طلبہ اورمحکمہ زراعت توسیع کے آفیسر مشترکہ کاوشیں عمل میں لاتے ہوئے کاشتکاروں کو جدید رحجانات سے متعارف کروا رہے ہیں۔

ایگریکلچر آفیسر ایکسٹینشن ڈیپارٹمنٹ مریم انوار نے کہا کہ کاشتکاروں کو نومبر کے مہینے میں بوائی کے عمل کو یقینی بنانا چاہیے کیونکہ اگر نومبر کے مہینے میں بوائی نہ ہوئی تو اس سے نہ صرف پیداوار میں کمی واقع ہو گی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ بوائی کیلئے دس کلو بیج فی ایکڑ بھی زیادہ لگانا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ ڈرل سے بوائی اور تصدیق شدہ بیج بشمول اکبر19، عروج22، دلکش20 و دیگر استعمال کریں کیونکہ معیاری بیج ہی بہتر پیداوار کا ضامن ہے۔

 

مزید خبریں