بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)نے خبردار کیا ہے کہ اگر نئے معاشی جھٹکوں کے باعث غذائی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ جاری رہا تو سب صحارن افریقاکے ممالک میں غذائی عدم تحفظ مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، زرعی پیداوار میں کمی اور مہنگائی میں اضافے کے خدشات بھی بڑھ رہے ہیں۔
سب صحارن افریقا میں غذائی عدم تحفظ بڑھنے کا خدشہ ہے، آئی ایم ایف

مزید خبریں
واشنگٹن ۔19اکتوبر (اے پی پی):بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)نے خبردار کیا ہے کہ اگر نئے معاشی جھٹکوں کے باعث غذائی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ جاری رہا تو سب صحارن افریقاکے ممالک میں غذائی عدم تحفظ مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، زرعی پیداوار میں کمی اور مہنگائی میں اضافے کے خدشات بھی بڑھ رہے ہیں۔شِنہوا کے مطابق آئی ایم ایف کے افریقی شعبے کے ڈائریکٹر زین زیدان نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ گزشتہ چھ سے سات ماہ کے دوران کھاد کی قیمتوں میں اضافے کے باعث اناج کی قیمتیں بھی نمایاں طور پر بڑھی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کھاد کی محدود دستیابی سے کسانوں کی اگلی فصل کی کاشت متاثر ہو سکتی ہے جس کے نتیجے میں زرعی پیداوار کم ہونے اور غذائی اشیا کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق رکاوٹوں اور امریکا ایران تنازعے کے باعث رواں سال کھاد کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا جبکہ بحیرہ اسود میں یوکرین اور روس کی اناج کی ترسیل کو درپیش مسائل بھی غذائی تحفظ کے لیے خطرہ ہیں۔ ان کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں اور ال نینو کے اثرات بھی زرعی پیداوار کو متاثر کر سکتے ہیں۔آئی ایم ایف عہدیدار نے کہا کہ افریقی ممالک میں صارفین کے قیمتوں کے اشاریے میں غذائی اشیا کا نمایاں حصہ ہے اس لیے خوراک کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے سے مجموعی مہنگائی بھی بڑھ سکتی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ افراطِ زر کو قابو میں رکھنے کے لیے مالیاتی پالیسی میں محتاط اور ضرورت پڑنے پر سخت اقدامات کرنا اہم ہے۔آئی ایم ایف کی ذیلی صحارا افریقا سے متعلق تازہ علاقائی اقتصادی جائزہ رپورٹ کے مطابق خطے میں اوسط مہنگائی کی شرح 2025 کے 3.4 فیصد سے بڑھ کر 2026 میں 4.3 فیصد اور 2027 میں 5 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے جبکہ 2026 اور 2027 دونوں برسوں میں اقتصادی ترقی کی شرح 4.5 فیصد رہنے کی پیش گوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکا ایران تنازعے کے اثرات طویل عرصے تک برقرار رہ سکتے ہیں۔
امریکی 10 سالہ ٹریژری بانڈز پر منافع کی شرح میں تنازعہ شروع ہونے کے بعد 100 بیسس پوائنٹس سے زیادہ اضافہ افریقی ممالک کے لیے قرضوں کی لاگت بلند رکھے ہوئے ہے جس سے مالیاتی استحکام متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔زین زیدان نے افریقا اور ایشیا کے درمیان بڑھتے تجارتی تعلقات کو مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ چین سمیت متعدد ایشیائی ممالک خطے کے اہم تجارتی شراکت دار بن چکے ہیں۔ انہوں نے افریقا میں ایشیائی ممالک کی جانب سے براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔انہوں نے کہا کہ نوجوان آبادی، تخلیقی صلاحیتوں اور ٹیکنالوجی سے استفادے کے باعث افریقا مستقبل میں عالمی معیشت کی ترقی کا اہم محرک بن سکتا ہے۔








