اسلام آباد۔18نومبر (اے پی پی):27ویں آئینی ترمیم کے تحت اہم آئینی و قانونی عدالتی اداروں بشمول سپریم جوڈیشل کونسل (ایس جے سی)، جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (جے سی پی) اور سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجر) کمیٹی کو نئے آئینی ڈھانچے کے مطابق ازسرِنو تشکیل دے دیا گیا۔ سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق شفافیت اور ادارہ جاتی تسلسل کے اصولوں کے تحت نئی نامزدگیاں کی …
27ویں آئینی ترمیم کے تحت اہم آئینی و قانونی عدالتی اداروںسپریم جوڈیشل کونسل ، جوڈیشل کمیشن آف پاکستان اور سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجر) کمیٹی کی تشکیل نو کردی گئی

مزید خبریں
اسلام آباد۔18نومبر (اے پی پی):27ویں آئینی ترمیم کے تحت اہم آئینی و قانونی عدالتی اداروں بشمول سپریم جوڈیشل کونسل (ایس جے سی)، جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (جے سی پی) اور سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجر) کمیٹی کو نئے آئینی ڈھانچے کے مطابق ازسرِنو تشکیل دے دیا گیا۔
سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق شفافیت اور ادارہ جاتی تسلسل کے اصولوں کے تحت نئی نامزدگیاں کی گئی ہیں جن کے تحت سپریم کورٹ کے سینئر ترین ججوں کی فہرست میں اگلے نمبر پر موجود جسٹس جمال خان مندوخیل کوآرٹیکل 209 کے کلاز 2(d) کے تحت چیف جسٹس آف پاکستان اور چیف جسٹس فیڈرل کانسٹیٹیوشنل کورٹ (وفاقی آئینی عدالت ) کی باہمی نامزدگی سےسپریم جوڈیشل کونسل کا رکن مقرر کیا گیا ہے۔
فیڈرل کانسٹیٹیوشنل کورٹ کے اگلے سینئر جج جسٹس عامر فاروق کوآرٹیکل 175A، کلاز 2(iiia) کے تحت چیف جسٹس آف پاکستان اور چیف جسٹس فیڈرل کانسٹیٹیوشنل کورٹ (وفاقی آئینی عدالت ) کی مشترکہ نامزدگی سے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا رکن مقرر کر دیا گیا ہے۔
سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجر) ایکٹ 2023 کی دفعہ 2 کے تحت چیف جسٹس آف پاکستان نے جسٹس جمال خان مندوخیل کوسپریم کورٹ کے سینئر ترین دستیاب جج کی حیثیت سےکمیٹی کا رکن نامزد کیا ہے۔اعلامیہ میں مزید کہاگیاہے کہ ترمیم شدہ آئینی ڈھانچے کے تحت یہ ادارے اب عدالتی احتساب، ججوں کی تقرری اور عدالتی طریقہ کار کی نگرانی میں اپنا مرکزی کردار جاری رکھیں گے۔








