سرکاری ملازمین کی ترقی کے عمل کو شفاف، منصفانہ اور بروقت مکمل کرنا اداروں کا فرض ہے، سپریم کورٹ

اسلام آباد۔23جنوری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ محکمہ جاتی غفلت کی سزا ملازم کو نہیں دی جا سکتی ، کسی سرکاری ملازم کو محکمہ جاتی غفلت، تاخیر یا نااہلی کا نقصان نہیں اٹھانا پڑے گا اور اگر وہ ترقی کے لیے اہل ہو تو بروقت غور اس کا قانونی حق ہے۔سپریم کورٹ کے تفصیلی تحریری فیصلے کے مطابق جسٹس عائشہ …

اسلام آباد۔23جنوری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ محکمہ جاتی غفلت کی سزا ملازم کو نہیں دی جا سکتی ، کسی سرکاری ملازم کو محکمہ جاتی غفلت، تاخیر یا نااہلی کا نقصان نہیں اٹھانا پڑے گا اور اگر وہ ترقی کے لیے اہل ہو تو بروقت غور اس کا قانونی حق ہے۔سپریم کورٹ کے تفصیلی تحریری فیصلے کے مطابق جسٹس عائشہ اے ملک، جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل تین رکنی بینچ نے سرکاری ملازم فخر مجید کی سول پٹیشن کو اپیل میں تبدیل کرتے ہوئے منظور کرلیا۔ عدالت نے پنجاب سروس ٹریبونل کا 16 فروری 2024ء کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔عدالت نے حکم دیا کہ فخر مجید کو ڈرافٹس مین (BPS-14) کے عہدے پر 21 جنوری 2012ء سے ترقی یافتہ تصور کیا جائے کیونکہ اسی تاریخ کو محکمانہ ترقیاتی کمیٹی (ڈی پی سی) منعقد ہوئی تھی، تاہم بغیر کسی جواز کے درخواست گزار کے کیس پر غور نہیں کیا گیا تھا۔ع

دالتی فیصلے کے مطابق فخر مجید 2008ء سے مسلسل ڈرافٹس مین کے عہدے پر کرنٹ چارج کے طور پر فرائض انجام دے رہے تھے اور 2010ء میں ترقی کے لیے اہل ہو چکے تھے، تاہم اریگیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی جانب سے نہ تو بروقت ڈی پی سی بلائی گئی اور نہ ہی کوئی قانونی وجہ ریکارڈ پر لائی گئی کہ انہیں 2012ء میں کیوں نظرانداز کیا گیا۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اگرچہ قانون کے تحت ترقی بذاتِ خود حق نہیں تاہم ترقی کے لیے بروقت غور ہر اہل سرکاری ملازم کا بنیادی حق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ محکمے اپنی نااہلی اور تاخیر کو جواز بنا کر قانون کی آڑ نہیں لے سکتے۔

جسٹس عائشہ اے ملک نے فیصلے میں کہا کہ سرکاری اداروں کا فرض ہے کہ وہ ملازمین کی ترقی کے عمل کو شفاف، منصفانہ اور بروقت مکمل کریں۔ طویل عرصے تک کسی افسر کو کرنٹ چارج پر رکھنا اور پھر اسے ترقی سے محروم رکھنا نہ صرف ناانصافی بلکہ آئین کے آرٹیکل 4 اور 25 کی بھی خلاف ورزی ہے۔عدالت نے مزید کہا کہ ریاست بطور آجر ایک ماڈل ایمپلائر ہے اور اسے ملازمین کے ساتھ اعلیٰ معیار کی شفافیت، انصاف اور جوابدہی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

محکمہ جاتی غفلت کی سزا ملازم کو نہیں دی جا سکتی۔سپریم کورٹ نے ان بنیادوں پر پنجاب سروس ٹریبونل کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے فخر مجید کو 21 جنوری 2012ء سے ترقی کے تمام مالی و سروس فوائد دینے کا حکم جاری کردیا۔