سر سید احمد خان کی 128ویں برسی منائی گئی

سر سید احمد خان کی 128ویں برسی منائی گئی۔ اس موقع پر مختلف میڈیا پلیٹ فارمز پرسر سید احمد خان کو ایک وژنری مصلح اور ماہرِ تعلیم کے طور خراجِ عقیدت پیش کیا جنہوں نے جدید تعلیم اور سماجی ترقی کو فروغ دیا۔سر سید احمد خان 17 اکتوبر 1817 کو نئی دہلی میں پیدا ہوئے، ان کااصل نام سعید احمد خان تھا ۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم میں قرآن پاک …

اسلام آباد۔27مارچ (اے پی پی):سر سید احمد خان کی 128ویں برسی منائی گئی۔ اس موقع پر مختلف میڈیا پلیٹ فارمز پرسر سید احمد خان کو ایک وژنری مصلح اور ماہرِ تعلیم کے طور خراجِ عقیدت پیش کیا جنہوں نے جدید تعلیم اور سماجی ترقی کو فروغ دیا۔سر سید احمد خان 17 اکتوبر 1817 کو نئی دہلی میں پیدا ہوئے، ان کااصل نام سعید احمد خان تھا ۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم میں قرآن پاک کا مطالعہ کیا اس کے علاوہ عربی اور فارسی ادب کا مطالعہ بھی کیا۔ انہوں نے اپنی قوم کے لیے ایک ترقی پسند مستقبل کا خواب دیکھا، جس کی بنیاد علم، عقل اور جدید تعلیم پر تھی۔

ان کا مشن واضح تھا کہ ذہنوں کو بیدار کیا جائے اور معاشرے کو فکری و سماجی ترقی کی جانب گامزن کیا جائے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی میں بطور کلرک اپنے کیریئر کے آغاز سے لے کر سب جج کے عہدے تک، سر سید نے اپنے اصل مقصد کو کبھی فراموش نہیں کیا جو کہ تعلیم کے ذریعے ذہنوں کو بااختیار بنانا تھا۔

وہ برصغیر میں مسلم جدیدیت کی فکری بنیاد رکھنے والے سرخیل بن کر سامنے آئے۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ علی گڑھ تحریک تھا، جو محض ایک اقدام نہیں بلکہ ایک فکری انقلاب تھا۔ محمڈن اینگلو اورینٹل کالج کے قیام اور سائنٹیفک سوسائٹی کی بنیاد رکھ کر انہوں نے نسلوں کو جدید تعلیم اپنانے کی ترغیب دی۔

ان کی کوششوں سے علی گڑھ علم و اصلاح کا مرکز بن گیا۔ سر سیداحمد خان کا وژن ایک ادارے تک محدود نہیں تھا بلکہ وہ ملک کے کونے کونے تک تعلیم کا فروغ چاہتے تھے۔ محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کے ذریعے انہوں نے کمیونٹیز کو متحرک کیا اور علم کے حصول کا جذبہ بیدار کیا۔

سر سیداحمد خان 27 مارچ 1898 کوانتقال کر گئے ، ان کے انتقال کے بعد بھی ان کی میراث ترقی، اتحاد اور فکری بیداری کی علامت کے طور پر قائم ہے۔سر سیداحمد خان کو دو قومی نظریے کے بانی اور قائداعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال کے ساتھ پاکستان کے بانی رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔

ان کی 128ویں برسی کے موقع پر ملک بھر میں لوگوں نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کی تعلیمات کو اجاگر کرتے ہوئے ان کی پائیدار میراث اور آئندہ نسلوں کے لیے متعین کردہ راستے کو سراہا۔