سزا کے تعین میں مجاز اتھارٹی کا اختیار کلیدی اہمیت کا حامل ہے ، سپریم کورٹ

سزا کے تعین میں مجاز اتھارٹی کا اختیار کلیدی اہمیت کا حامل ہے ، سپریم کورٹ

اسلام آباد۔2مئی (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے محکمہ تعلیم کے ایک افسر کی برطرفی کے خلاف دائر درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سروس ڈسپلن کی خلاف ورزی اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر سخت سزا دی جا سکتی ہےجبکہ سزا کے تعین میں مجاز اتھارٹی کا اختیار کلیدی حیثیت رکھتا ہے اور عدالتیں محدود دائرے میں ہی مداخلت کرتی ہیں۔رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق چیف جسٹس جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس محمد علی مظہر پر مشتمل بینچ نے محمد جاوید اقبال کی جانب سے دائر اپیل کی سماعت کے بعد پنجاب سروس ٹریبونل کا فیصلہ برقرار رکھا۔

عدالت کے سامنے کیس میں درخواست گزار جو محکمہ تعلیم پنجاب میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر (ایڈمن) کے طور پر تعینات تھے، پر الزام تھا کہ انہوں نے حکومتی پابندی کے باوجود بڑے پیمانے پر تبادلے کیے، مجاز افسران کو نظر انداز کیا اور قواعد کے برعکس اساتذہ کی تعیناتیاں عمل میں لائیں۔ انکوائری کے بعد انہیں پنجاب ایمپلائز ایفیشنسی، ڈسپلن اینڈ اکاؤنٹیبلٹی ایکٹ 2006 کے تحت ملازمت سے برطرف کر دیا گیا تھا۔ درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ تمام تبادلے خالی آسامیوں کے خلاف اور متعلقہ افسران کی معلومات میں کیے گئے جبکہ انکوائری کے دوران مناسب دفاع کا موقع بھی فراہم نہیں کیا گیا۔

متبادل طور پر استدعا کی گئی کہ طویل اور بے داغ سروس کو مدنظر رکھتے ہوئے برطرفی کو لازمی ریٹائرمنٹ میں تبدیل کیا جائےتاہم سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ انکوائری میں درخواست گزار کو مکمل موقع دیا گیا لیکن وہ الزامات کا دفاع نہ کر سکے اور تبادلے حکومتی پابندی کے دوران غیر قانونی طور پر کیے گئے۔سپریم کورٹ نے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ انکوائری قانون کے مطابق ہوئی اور درخواست گزار کو صفائی کا پورا موقع دیا گیا تاہم وہ الزامات کو رد کرنے میں ناکام رہے۔

عدالت نے واضح کیا کہ انکوائری افسر کی سفارشات مجاز اتھارٹی پر لازم نہیں ہوتیں اور وہ اپنی صوابدید کے مطابق سزا کا تعین کر سکتی ہے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ اصول بھی دہرایا کہ سزا کا تعین بنیادی طور پر انتظامی اتھارٹی کا اختیار ہے اور عدالتیں صرف اسی صورت مداخلت کرتی ہیں جب فیصلہ غیر معقول، غیر متناسب یا قانون کے خلاف ہو۔فیصلے میں کہا گیا کہ اگرچہ کیس میں کرپشن کا الزام نہیں تھا تاہم قواعد کی خلاف ورزی، غیر مجاز تبادلے اور سروس ڈسپلن کو نقصان پہنچانا سنگین بدانتظامی کے زمرے میں آتا ہے۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ مبینہ غیر قانونی تبادلوں کے باوجود محکمہ نے ایک سال بعد کارروائی شروع کی اور دیگر متعلقہ افسران کے خلاف کوئی اقدام نہیں کیا تاہم اس پہلو کے باوجود درخواست گزار کی ذمہ داری ختم نہیں ہوتی۔عدالت نے قرار دیا کہ برطرفی کی سزا نہ تو غیر قانونی ہے اور نہ ہی غیر متناسب، لہٰذا درخواست مسترد کرتے ہوئے پنجاب سروس ٹریبونل کا فیصلہ برقرار رکھا جاتا ہے۔