سستی توانائی فراہم کرنے کے لئے 2050 تک توانائی کی کل پیداوار میں ہائیڈرو پاور کا حصہ 50 فیصد تک بڑھایا جائے گا، چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل (ر) مزمل حسین

اسلام آباد ۔ 28 ستمبر (اے پی پی) چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل (ر) مزمل حسین نے کہا ہے کہ سستی توانائی فراہم کرنے کے لئے 2050 تک توانائی کی کل پیداوار میں ہائیڈرو پاور کا حصہ 50 فیصد تک بڑھایا جائے گا جس سے کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا اور معیشت تیز رفتار ترقی کرے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری …

اسلام آباد ۔ 28 ستمبر (اے پی پی) چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل (ر) مزمل حسین نے کہا ہے کہ سستی توانائی فراہم کرنے کے لئے 2050 تک توانائی کی کل پیداوار میں ہائیڈرو پاور کا حصہ 50 فیصد تک بڑھایا جائے گا جس سے کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا اور معیشت تیز رفتار ترقی کرے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دورہ کے موقع پر تاجر برادری سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔۔ انہوں نے دیامر بھاشا، داسو، مہمند اور دیگر ڈیموں کی تعمیر کے بارے میں تاجر برادری کو ایک تفصیلی پریزنٹیشن دی۔ انہوں نے کہا کہ مہنگی بجلی اور توانائی کے مسائل کے باوجود تاجروصنعتکار برادری کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے اور معیشت کا پہیہ چلانے کے لئے زبردست کام کرر ہی ہے جو قابل تعریف ہے۔ چیئرمین واپڈا نے کہا کہ دنیا میں پانی کی اوسط ذخیرہ کرنے کی گنجائش 40 فیصد ہے جبکہ پاکستان میں 10 فیصد سے بھی کم ہے اور واپڈا ملک میں مزید ڈیم تعمیر کر کے پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش کو بہتر بنانے کے لئے کوشاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ واپڈا نے حکومت کو آئی پی پیز کے ساتھ بات چیت کے لئے قائل کیا اور اگر آئی پی پیز کے ساتھ نئی شرائط پر عمل درآمد کیا گیا تو اس سے سالانہ 700 سے 800 ارب روپے کی بچت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ دیامر بھاشا ڈیم نے کاروباری برادری خصوصا اسٹیل سیمنٹ، ٹرانسپورٹ اور دیگر شعبوں کے لئے کاروبار کے بے شمار نئے مواقع پیدا کیے ہیں لہذا بزنس کمیونٹی کو چاہیے کہ وہ ان مواقعوں سے بھرپور فائدہ اٹھا کر اپنے کاروبار کو فروغ دے۔ انہوں نے کہا کہ واپڈا کو تقسیم کرنا بہتر فیصلہ نہیں تھا کیونکہ اس سے بجلی کے شعبے میں فیصلہ سازی میں ہم آہنگی کا فقدان پیدا ہوا ہے اور گردشی قرضے کو فروغ ملا تاہم انہوں نے کہا کہ حکومت ان معاملات کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بزنس کمیونٹی کو واپڈا کے ساتھ اپنے روابط کو مزید بڑھانا چاہئے جس سے کاروبار می سرگرمیوں کی بہتر ترقی کی راہ ہموار ہو گی اور پاکستان میں خوشحالی آئے گی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر محمد احمد وحید نے مزید ڈیم بنانے اور پن بجلی پیدا کرنے پر توجہ دینے کے لئے چیئرمین واپڈا کی کوششوں کو سراہا کیونکہ ان کوششوں کے نتیجے میں ملک میں کاروبار کرنے کی لاگت ہو گی اور کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار اور سرمایہ کاری کے بہتر فروغ کیلئے سستی بجلی کی پیداوار اشد ضروری ہے اور واپڈا کی اس مقصد کیلئے کوششیں قابل ستائش ہیں۔ انہوں نے دنیا کی 3 ریٹنگ ایجنسیوں سے مستحکم درجہ بندی حاصل کرنے پر واپڈا کو بھی خراج تحسین پیش کیا جو ادارے کی بڑی کامیابی ہے۔ چیئرمین فاو¿نڈر گروپ میاں اکرم فرید نے اپنے خطاب میں کہا کہ مہنگی بجلی کی وجہ سے پیداوری شعبے کی سرگرمیاں بہت متاثر ہو رہی ہیں لہذا انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ پیداواری لاگت کو کم کرنے کے لئے ہائیڈرو پاور پر زیادہ توجہ دی جانی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں چھوٹے پاور پلانٹس لگانے کے لئے 250 مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے لیکن لائسنس ایوارڈ کرنے کا عمل منصفانہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ انڈسٹری کو اضافی بوجھ سے بچانے کے لئے ڈسکو کی کارکردگی کو بہتر بنایا جائے اور فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز سسٹم پر نظرثانی کی جائے۔ اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر طاہر عباسی نے چیمبر کا دورہ کرنے اور تاجر برادری کو تفصیلی پریزنٹیشن دینے پر چیئرمین واپڈا کا شکریہ ادا کیا۔ چیمبر کے نائب صدر سیف الرحمن خان، میاں شوکت مسعود، محترمہ فاطمہ عظیم، خالد ملک، ملک سہیل حسین، بابر چوہدری، خالد چوہدری اور دیگر نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور توانائی شعبے کو مزید بہتر بنانے کے لئے بہت ساری تجاویز پیش کیں۔