سعودی عرب، عسیر میں بلند ترین روشنیوں والے فوارے کا افتتاح

سعودی عرب کے عسیر ریجن میں الوادی ریزارٹ نے مشرقِ وسطی میں دوسرے سب سے بلند رقصاں روشنیوں والے فوارے کا افتتاح کر دیا ہے جو مملکت میں سب سے اونچا فوارہ ہو گا۔

ریاض ۔15جولائی (اے پی پی):سعودی عرب کے عسیر ریجن میں الوادی ریزارٹ نے مشرقِ وسطی میں دوسرے سب سے بلند رقصاں روشنیوں والے فوارے کا افتتاح کر دیا ہے جو مملکت میں سب سے اونچا فوارہ ہو گا۔

اردو نیوز کے مطابق یہ دنیا کا تیسرا سب سے اونچا فوارہ ہے جو 120 میٹر کی بلندی تک پانی اچھال سکتا ہے جبکہ سات ملین لیٹر پانی کو پمپ کر سکتا ہے۔ اِس کی تعمیر پر 16 ملین ریال سے زیادہ کی لاگت آئی ہے۔اس فوارے کا افتتاح مربوط سیاحتی منصبوے کا اہم سنگِ میل ہے جو تین لاکھ سکوائر میٹر تک پھیلا ہوا ہے۔ فوراے کے آس پاس خصوصی باغات، فارم، ریستوران، کیفے، تھیٹر اور مختلف تقریبات کے لیے اِن ڈور ہال بھی ہے۔اس ریزوٹ پر 60 ہزار سکوائر میٹر پر پھیلا ہوا کا ایک گاؤں بھی ہے جو عسیر ریجن کے مستند ثقافتی ورثے کی غمازی کرتا ہے۔ اس ریزارٹ میں دکانیں اور روایتی بازار شامل ہیں جو عسیر کے ورثے کو لوگوں کے سامنے لاتے ہیں۔ اِس کے علاوہ یہاں پر اگلے ماہ عسیر کی تاریخی اور ثقافتی میراث پر مبنی ایک مکمل میوزیم کا افتتاح بھی کیا جائے گا۔

اس ریزارٹ میں روزانہ کی بنیاد پر تفریحی پروگرام پیش کیے جاتے ہیں جن میں رقص کرتی روشنیوں والے فوارے کے دلکش مظاہرے، تھیٹر کی پرفارمینسز اور دیگر کئی طرح کی تفریحی سرگرمیاں شامل ہیں جن کا آغاز دوپہر ایک بجے ہوتا ہے اور جو نصف شب تک جاری رہتی ہیں۔رنگا رنگی سے بھرپور یہ تفریحی مشاغل علاقے میں سیاحت کو فروغ دیتے ہیں اور سمر سیزن میں یہاں آنے والوں کے تجربے کو خوشگوار بنانے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔یہ منصوبہ، ایک اہم شراکت کار کے طور پر نجی شعبے کی طرف سے ملنے والے تعاون کو ظاہر کرتا ہے جس سے بہترین معیار کے سیاحتی منصوبوں کے ذریعے قومی ترقی میں مدد ملتی ہے۔ان منصوبوں سے معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوتا ہے جس سے مملکت میں ایک نمایاں سیاحتی مقام کے طور پر عسیر کی پوزیشن مضبوط ہوتی ہے جو سعودی وژن 2030 کے مقاصد سے ہم آہنگ ہے جن کے تحت سیاحت کے شعبے میں نشو و نما لانا اور معیارِ زندگی کو بلند کرنا شامل ہے۔