ریاض۔29اکتوبر (اے پی پی):برطانیہ کے وزیر برائے سرمایہ کاری جیسن سٹوکوڈ نے کہا ہےکہ سعودی عرب اوربرطانیہ کے تعلقات محض اعداد و شمار یا معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ یہ باہمی شراکت، اعتماد اور مستقبل کے مشترکہ وژن پر قائم ہیں۔ العربیہ کے مطابق انہوں نے ریاض میں منعقدہ فیوچر انویسٹمنٹ فورم کے نویں اجلاس میں شرکت کے موقع پر کہا کہ ہم سعودی عرب سے سیکھ رہے ہیں اور …
سعودی عرب اوربرطانیہ کے تعلقات باہمی شراکت، اعتماد اور مستقبل کی مشترکہ وژن پر قائم ہیں،برطانوی وزیرِ سرمایہ کاری
ریاض۔29اکتوبر (اے پی پی):برطانیہ کے وزیر برائے سرمایہ کاری جیسن سٹوکوڈ نے کہا ہےکہ سعودی عرب اوربرطانیہ کے تعلقات محض اعداد و شمار یا معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ یہ باہمی شراکت، اعتماد اور مستقبل کے مشترکہ وژن پر قائم ہیں۔
العربیہ کے مطابق انہوں نے ریاض میں منعقدہ فیوچر انویسٹمنٹ فورم کے نویں اجلاس میں شرکت کے موقع پر کہا کہ ہم سعودی عرب سے سیکھ رہے ہیں اور اس کے ساتھ ایک پائیدار اور جدید عالمی معیشت کی تشکیل کے جذبے میں شریک ہیں، برطانیہ چاہتا ہے کہ وہ سعودی عرب کے خودمختار دولت فنڈپبلک انویسٹمنٹ فنڈ (پی آئی ایف )کے تجربے سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرے تاکہ مملکت میں طویل المدتی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لئے اسی طرز کا ماڈل تیار کیا جا سکے۔
انہوں نے سعودی عرب کی وژن 2030 کے تحت جاری معاشی تبدیلیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ لندن، ریاض کو عالمی سرمایہ کاری کے مستقبل کے تعین میں اہم سٹریٹجک شراکت دار سمجھتا ہے، اسی تناظر میں دونوں کا ہدف ہے کہ 2030 تک باہمی سرمایہ کاری کے ذریعے 30 ارب پاؤنڈ کے منصوبے تک پہنچا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور برطانیہ کے درمیان تعلقات باہمی اعتماد اور معاشی تکمیل کی مضبوط بنیاد پر قائم ہیں، ریاض میں جاری معاشی اصلاحات دونوں ممالک کے درمیان گہرے تعاون کا تاریخی موقع فراہم کر رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھاکہ برطانیہ کی نئی صنعتی حکمتِ عملی جو گزشتہ سال شروع کی گئی اپنے مقاصد میں سعودی وژن 2030 سے ہم آہنگ ہے خصوصاً جدید ٹیکنالوجی، صاف توانائی، لائف سائنسز اور صنعتی شعبوں میں ہم نے سعودی وژن کے ماڈل کو اپنایا ہے۔ اُنہوں نے زور دیا کہ دونوں ممالک سائنس اور اختراع پر مبنی جدید معیشت کے ایک ہی ہدف کی جانب گامزن ہیں۔









