ریاض۔23نومبر (اے پی پی):سعودی حکام نے ایک ہفتے کے دوران اقامہ، لیبر اور سرحدی قانون کی خلاف ورزی پر مزید 22 ہزار 94 غیر قانونی تارکین وطن کو گرفتار کیا ہے۔اردو نیوز نے ایس پی اے کے حوالے سے بتایا کہ 13 سے 19 نومبر 2025 کے درمیان مجموعی طور پر 13 ہزار 750 افراد کو اقامہ قانون، 4 ہزار 720 کو غیر قانونی سرحد عبور کرنے کی کوشش اور …
سعودی عرب میں اقامہ، لیبر اور سرحدی قانون کی خلاف ورزی پر مزید 22 ہزار غیر قانونی تارکین گرفتار

مزید خبریں
ریاض۔23نومبر (اے پی پی):سعودی حکام نے ایک ہفتے کے دوران اقامہ، لیبر اور سرحدی قانون کی خلاف ورزی پر مزید 22 ہزار 94 غیر قانونی تارکین وطن کو گرفتار کیا ہے۔اردو نیوز نے ایس پی اے کے حوالے سے بتایا کہ 13 سے 19 نومبر 2025 کے درمیان مجموعی طور پر 13 ہزار 750 افراد کو اقامہ قانون، 4 ہزار 720 کو غیر قانونی سرحد عبور کرنے کی کوشش اور 3 ہزار 624 کو قانون محنت کی خلاف ورزی پر حراست میں لیا گیا ۔
سعودی عرب میں غیرقانونی طور پر داخل ہونے کی کوشش پر ایک ہزار867 افراد کو بھی حراست میں لیا گیا، ان میں سے 65 فیصد ایتھوپین، 34 فیصد یمنی اور ایک فیصد دیگر ملکوں سے تعلق رکھتے ہیں۔علاوہ ازیں سفر، رہائش، روزگار اور پناہ دینے کی کوششوں میں ملوث 32 افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر 30 ہزار 55 غیر قانونی تارکین کے خلاف قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔ ان میں 28 ہزار 469 مرد اورایک ہزار586 خواتین ہیں۔
ان میں 21 ہزار9856 کو سفری انتظامات کےلیے سفارتخانوں یا قونصلیٹ سے رابطہ کرنے جبکہ 4 ہزار555 کو سفری انتظامات کی ہدایت کی گئی ہے، 14 ہزار 206 افراد کو سعودی عرب سے بے دخل کیا گیا۔ واضح رہے سعودی عرب میں غیرقانونی تارکین وطن کو سفری، رہائشی یا ملازمت کی سہولت فراہم کرنا قانوناً جرم ہے اور اس کے لیے مختلف سخت سزائیں مقرر ہیں۔
سعودی وزارت داخلہ کا کہنا ہے جو بھی شخص غیر قانونی تارکین کو سعودی عرب میں داخل ہونے کی سہولت فراہم کرے گا، اسے 15 برس قید اور 10 لاکھ ریال تک جرمانے کے ساتھ گاڑی اور جائیداد کی ضبطی کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔








