اسلام آباد۔9فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے سعودی عرب کو پاکستان کا دیرینہ شراکت دار قرار دیتے ہوئے اہم اقتصادی شعبوں میں پائیدار اور باہمی طور پر مفید تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے یہ بات پیر کو سعودی عرب کے شہر العُلا میں منعقدہ کانفرنس کے موقع پرسعودی اخبار عرب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ …
سعودی عرب پاکستان کا دیرینہ شراکت دار ہے،اہم اقتصادی شعبوں میں پائیدار اور باہمی طور پر مفید تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے،وزیرخزانہ محمد اورنگزیب کی عرب نیوز سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد۔9فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے سعودی عرب کو پاکستان کا دیرینہ شراکت دار قرار دیتے ہوئے اہم اقتصادی شعبوں میں پائیدار اور باہمی طور پر مفید تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے یہ بات پیر کو سعودی عرب کے شہر العُلا میں منعقدہ کانفرنس کے موقع پرسعودی اخبار عرب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
وزیر خزانہ نے بتایاکہ عالمی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باوجود پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات مضبوط اور مستحکم ہیں،مملکت سعودی عرب طویل عرصے سے پاکستان کا دیرینہ شراکت دار رہا ہے اور ہم اس تعاون پر بے حد شکر گزار ہیں جو ہمیں ہر کڑے وقت اور مشکل مرحلے میں حاصل رہا، اب جبکہ ہم نے معاشی استحکام حاصل کر لیا ہے، میرا خیال ہے کہ ہم ترقی کے لیے ایک مضبوط مقام پر کھڑے ہیں۔
وزیرخزانہ نے کہاکہ پاک سعودی شراکت داری کے نتیجے میں معدنیات و کان کنی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت اور سیاحت سمیت متعدد شعبوں میں سرمایہ کاری ممکن ہوئی ہے۔ انہوں نے سعودی سرمایہ کاری کے ایک فعال سلسلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وافی کی پاکستان کے ڈائون سٹریم آئل اینڈ گیس شعبے میں شمولیت اس کی ایک مثال ہے۔
انہوں نے کہاکہ سعودی عرب نے پاکستان میں ترجیحی شعبوں جن میں معدنیات و کان کنی، آئی ٹی، زراعت اور سیاحت شامل ہیں،میں سرمایہ کاری کی اپنی خواہش کا کھل کر اظہار کیا ہے، پہلے ہی کچھ سرمایہ کاری آ چکی ہے، مثلاً وافی نے ڈائون سٹریم آئل اینڈ گیس سٹیشنز کے شعبے میں قدم رکھا ہے، سرمایہ کاری کا ایک نہایت فعال پائپ لائن موجود ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ان شعبوں میں ترقی کو نجی شعبے کی سرگرمیاں آگے بڑھا رہی ہیں جبکہ بین الحکومتی سطح پر تعاون بنیادی طور پربنیادی ڈھانچہ کی ترقی پر مرکوز ہے۔
بیوروکریسی اور تاخیر سے متعلق سرمایہ کاروں کے دیرینہ خدشات کو تسلیم کرتے ہوئے وزیرخزانہ نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران پاکستان نے ڈھانچہ جاتی اصلاحات، مالیاتی نظم و ضبط اور کاروباری ماحول میں بہتری کے لیے نمایاں پیش رفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو سالوں میں ہم نے ڈھانچہ جاتی اصلاحات پر بہت محنت کی ہے اور جسے میں بنیادی نظم و ضبط یا بنیادی صحت کہتا ہوں، اسے مالیاتی صورتحال اور مجموعی معاشی حالات کے تناظر میں درست سمت پر لانے کی بھرپور کوشش کی ہے۔
وزیرخزانہ نے کان کنی اور ریفائننگ کو اہم شعبوں کے طور پر اجاگر کیا جن میں ریکوڈک منصوبے سے متعلق بات چیت بھی شامل ہے تاہم انہوں نے واضح کیا کہ سعودی سرمایہ کاروں کے ساتھ مذاکرات صرف ایک منصوبے تک محدود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے نقطہ نظر سے یہ معاملہ صرف ایک کان تک محدود نہیں، سعودی سرمایہ کاروں کے ساتھ متعدد شعبوں میں بات چیت کا سلسلہ جاری رہے گا۔
وزیرخزانہ نے آئی ٹی کے شعبے میں بڑھتے ہوئے تعاون خصوصاً مصنوعی ذہانت کے میدان میں پیش رفت کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ کئی پاکستانی ٹیک کمپنیاں پہلے ہی سعودی شراکت داروں کے ساتھ بات چیت کر رہی ہیں یا مملکت میں اپنے دفاتر قائم کر چکی ہیں۔
سعودی وزیر معیشت و منصوبہ بندی فیصل الابراہیم کے ساتھ حالیہ ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے وزیرخزانہ نے کہا کہ مہارتوں کی ترقی طلب کے مطابق ہونے سے پاکستان کی وسیع فری لانس افرادی قوت گہرے تعاون کے وسیع مواقع فراہم کرتی ہے، سعودی وزیر معیشت و منصوبہ بندی نے خاص طور پر پاکستانی ٹیک ٹیلنٹ کا ذکر کیا جو بالکل درست ہے۔
ہمارے پاس دنیا کی تیسری سب سے بڑی فری لانسر آبادی ہے اور ہمیں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ہم ان کی مہارتوں کو مزید بہتر، جدید اور ہم آہنگ بنائیں۔وزیرخزانہ نے توانائی کے شعبے میں سعودی عرب کے تجربے سے استفادے کے مواقع کا بھی ذکر کیا اور دفاعی پیداوار کے میدان میں جاری تعاون کاحوالہ دیا۔
مستقبل کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات کو امداد پر انحصار کے بجائے تجارت اور سرمایہ کاری کی بنیاد پر استوار کرنا چاہتا ہے ،وزیر اعظم پاکستان نے بالکل واضح کر دیا ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ آئندہ اس پوری گفتگو کو امداد اور معاونت سے آگے بڑھا کر تجارت اور سرمایہ کاری کی طرف منتقل کیا جائے۔








