ایمسٹرڈیم۔3دسمبر (اے پی پی):نیدرلینڈ زکے وزیر خارجہ ڈیوڈ وان ویل نے کہا ہے کہ ان کا ملک سعودی عرب کے ساتھ شراکت کو مزید مضبوط بنانے کے لئے کام کر رہا ہے تاکہ تعلقات کو ایسی سٹریٹجک سطح تک پہنچایا جائے جو سعودی وژن 2030ء کے اہداف سے ہم آہنگ ہو۔ العربیہ کے مطابق انہوں نے کہاکہ نیدرلینڈز سعودی عرب کو عالمی سطح پر اثر و رسوخ رکھنے والی جیو …
سعودی عرب کے ساتھ شراکت کو سٹریٹجک سطح تک لے جانا چاہتے ہیں،نیدرلینڈز

مزید خبریں
ایمسٹرڈیم۔3دسمبر (اے پی پی):نیدرلینڈ زکے وزیر خارجہ ڈیوڈ وان ویل نے کہا ہے کہ ان کا ملک سعودی عرب کے ساتھ شراکت کو مزید مضبوط بنانے کے لئے کام کر رہا ہے تاکہ تعلقات کو ایسی سٹریٹجک سطح تک پہنچایا جائے جو سعودی وژن 2030ء کے اہداف سے ہم آہنگ ہو۔ العربیہ کے مطابق انہوں نے کہاکہ نیدرلینڈز سعودی عرب کو عالمی سطح پر اثر و رسوخ رکھنے والی جیو پولیٹیکل قوت اور خطے میں امن و استحکام کا اہم شراکت دار سمجھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کا ملک سعودی عرب کے ساتھ اقتصادی تعاون میں بھی اضافہ کرے گا اور آئندہ دنوں میں نیدر لینڈز کی وزیر تجارت و ترقی اوکے ڈی فریس ایک بڑے تجارتی وفد کے ساتھ سعودی عرب کا دورہ کریں گی، جہاں دونوں ملک تجارتی شراکت کے فروغ کے امکانات پر بات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس دورے سے نمایاں سرمایہ کاری کے مواقع کھلیں گے۔ نیدر لینڈز کے وزیر خارجہ نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی تاریخ ایک صدی سے زائد پر محیط ہے اور اس کی ابتدا 1872 میں جدہ میں پہلے ڈچ قونصل خانے کے قیام سے ہوئی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک توانائی، زرعی ٹیکنالوجی، کاربن فری عمارتوں، تفریحی صنعت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور سفارت کاری سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے خواہاں ہیں تاکہ خطے کے استحکام میں کردار ادا کیا جا سکے۔ انہوں نے اپنی بات دہراتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک دو ریاستی حل کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم سعودی عرب کی سفارتی کوششوں کا احترام اور حمایت کرتے ہیں کیونکہ ریاض دو ریاستی حل کو خطے اور عالمی برادری کی اخلاقی ذمہ داری سمجھتا ہے۔ یہ واحد حل ہے جو مستقل امن کی ضمانت دے سکتا ہے۔ وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ان کا ملک خطے کے امن کے لئے سعودی عرب کے وسیع کردار خصوصاً یوکرین بحران کے حوالے سے امریکا، روس اور یوکرین کو ایک میز پر لانے کے لئے سعودی کوششوں کو کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب خلیجی خطے میں نیدرلینڈ کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ اقتصادی شراکت چار شعبوں توانائی کی تجدید، توانائی کی منتقلی، ری سائیکلنگ پر مبنی معیشت، پائیدار خوراک کی پیداوار اور ڈیجیٹائزیشن پر مرکوز ہےیہ تمام شعبے سعودی وژن 2030 سے ہم آہنگ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت سعودی عرب میں سو سے زائد ڈچ کمپنیاں کا م کر رہی ہیں۔
دوسری جانب سعودی کمپنیوں ارمکو اور سابک نے نیدرلینڈز میں ساڑھے تین ہزار سے زیادہ ملازمتیں فراہم کر رکھی ہیں جنہیں نیدرلینڈز قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ نیدرلینڈز خلیجی ممالک سے سب سے زیادہ معدنی ایندھن درآمد کرتا ہے جبکہ وہ خلیجی ریاستوں کو ماحول دوست ٹیکنالوجی، پانی سے متعلق آلات، پائیدار توانائی اور صنعتی مشینری فراہم کرتا ہے۔ یورپی یونین اور خلیجی ممالک کے درمیان سیاسی و سکیورٹی تعاون کے حوالے سے نیدرلینڈز کے وزیر خارجہ نے کہا کہ دونوں فریقوں کا مشترکہ مفاد خطے کے استحکام میں ہے کیونکہ آج دنیا جیو پولیٹیکل تبدیلیوں سے گزر رہی ہے ۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اس خطے کے امن، سمندری تحفظ اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے مشترکہ تعاون ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیدرلینڈز امریکا کی قیادت میں قائم سول ملٹری کوآرڈی نیشن سینٹر کے لئے انسانی تعاون فراہم کرے گا۔ یہ مرکز غزہ کے لئے امداد کے ساتھ ساتھ جنگ بندی کی نگرانی بھی کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیدرلینڈز مستقبل میں بھی اس مرکز کے لئے مزید تعاون پر غور کرے گا جو اسرائیل کے شہر کریات جات میں قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ملک غزہ میں جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے نفاذ میں تعاون کا بہترین طریقہ کار تلاش کر رہا ہے۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ خطے میں امن کے لئے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ غزہ کی جنگ نے دنیا بھر میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے پر بحث کو تیز کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ سوڈان اس وقت دنیا کے سب سے بڑا انسانی بحران کا سامنا کررہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ لاکھوں افراد ملک کے اندر بے گھر ہو رہے ہیں یا بیرون ملک پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فاشر اور دارفور سمیت پورے ملک میں فوری جنگ بندی ناگزیر ہے ۔
انہوں نے شہریوں کے تحفظ اور امداد کی فراہمی کو بھی لازمی قرار دیا۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین نے موجودہ محاذوں پر جنگ بندی کی تجویز قبول کر کے مذاکرات میں مثبت کردار ادا کیا ہے۔








