قصیم۔21جون (اے پی پی):سعودی عرب کے علاقے قصیم میں موزوں اراضی، آب و ہوا اور مقامی طلب کے باعث کدو کی پیداوار بڑھ گئی ہے۔ ایس پی اے‘ کے مطابق مملکت کے قصیم کی آب و ہوا اور مٹی کدو کی کاشت کے لیے بھی انتہائی موزوں ہے۔زرعی سائنس کے مطابق کدو کی تشکیل پھول سے ہوتی ہے جس کے اندر بعد ازاں بیج پیدا ہوتے ہیں جس سے …
سعودی عرب کے علاقے قصیم میں کدو کی پیداوارمیں اضافہ

مزید خبریں
قصیم۔21جون (اے پی پی):سعودی عرب کے علاقے قصیم میں موزوں اراضی، آب و ہوا اور مقامی طلب کے باعث کدو کی پیداوار بڑھ گئی ہے۔
ایس پی اے‘ کے مطابق مملکت کے قصیم کی آب و ہوا اور مٹی کدو کی کاشت کے لیے بھی انتہائی موزوں ہے۔زرعی سائنس کے مطابق کدو کی تشکیل پھول سے ہوتی ہے جس کے اندر بعد ازاں بیج پیدا ہوتے ہیں جس سے اسے پھولوں کے زمرے میں شامل کیا جاتا ہے تاہم اس کا ذائقہ پھلوں سے مختلف ہونے کی وجہ سے اسے پکایا جاتا ہے، اسے سبزیوں میں شامل کیا گیا۔
کدو یہ دل کی صحت کے لیے مفید ہے۔ وزن کم کرنے میں مددگار ہے، صحت مند جلد اور بالوں کے لیے بھی اس کا استعمال کیا جاتا ہے۔
کم کیلوریز کے ساتھ یہ اہم غذائی اجزا بھی فراہم کرتا ہے۔قصیم کے ایک مزارع صالح الصعب نے بتایا ’قصیم میں کدو کی کاشت انتہائی کامیابی سے کی جاتی ہے، متعدد انواع کے کدو کی کاشت انتہائی کامیابی سے یہاں کی جارہی ہے جن میں ’الجوزی، العسلی کے علاوہ دیگر اقسام شامل ہیں۔
صالح الصعب کا مزید کہنا تھا ہر قسم کے کدو کے جدا خواص ہیں۔ ’العسلی‘ کدو کو الحسا ریجن میں زیادہ پسند کیا جاتا ہے جبکہ الجوزی کدو بیٹا کیروٹین کا بھرپور ذریعہ ہے۔
اس کے علاوہ سفید کدو بھی ہے جوتقریبات میں ڈشسز کی سجاوٹ کے لیے معروف ہے۔
سعودی کاشتکار کا کہنا تھا کدو محض کھانے میں ہی نہیں پکایا جاتا بلکہ اس کا جام اور مربع بھی بنایا جاتا ہے جبکہ اس کے بیجوں کا تیل بھی مفید ہوتا ہے۔








