ریاض۔26دسمبر (اے پی پی):سعودی عرب کی وزارتِ ثقافت سفرِ حج سے جڑے تاریخی اور ثقافتی ورثے کو اجاگر کرنے کی کوشش کررہی ہے جس کا مقصد زائرین کے ثقافتی اور سیاحتی تجربے کو بہتر بنانا اور صدیوں سے مکہ مکرمہ جانے کے لیےہسٹورک جدہ کے گیٹ وے ہونے کے کردار کو نمایاں کرنا ہے۔ اردو نیوز کے مطابق یہ روٹ ایک مربوط ثقافتی اور سیاحتی تجرے کا آئینہ دار ہے …
سعودی وزارتِ ثقافت سفرِ حج سے جڑے تاریخی و ثقافتی ورثے کو اجاگر کرنے کے لیے کوشاں، مقصد زائرین کے سیاحتی تجربے کو بہتر بنانا اور ہسٹورک جدہ کے گیٹ وے ہونے کے کردار کو نمایاں کرنا ہے
ریاض۔26دسمبر (اے پی پی):سعودی عرب کی وزارتِ ثقافت سفرِ حج سے جڑے تاریخی اور ثقافتی ورثے کو اجاگر کرنے کی کوشش کررہی ہے جس کا مقصد زائرین کے ثقافتی اور سیاحتی تجربے کو بہتر بنانا اور صدیوں سے مکہ مکرمہ جانے کے لیےہسٹورک جدہ کے گیٹ وے ہونے کے کردار کو نمایاں کرنا ہے۔ اردو نیوز کے مطابق یہ روٹ ایک مربوط ثقافتی اور سیاحتی تجرے کا آئینہ دار ہے جو زائرین کو اس مقام کی تہذیبی اور انسانی قدروں کے ساتھ جوڑ دیتا ہے۔
یہ روٹ ان تاریخی سٹیشنز کو اجاگر کرتا ہے جہاں سے گزر کر زائرین ہسٹورک جدہ پہنچا کرتے تھے، یہی وجہ ہے اس مقام کی جڑیں تاریخی اعتبار سے گہری ہیں اور حج کے سفر میں اس جگہ کو ایک خاص اہمیت بھی حاصل ہے۔ہسٹورک جدہ کے راستے میں آثارِ قدیمہ کی کئی سائٹس اور بہت سی اہم مساجد بھی ہیں،ان میں الشونہ کی آثارِ قدیمہ کی سائٹ، عثمان بن عفان مسجد، مسجدِالمعمار، بیت نور ولی، بیت نصیف، سوق العلوی اور المغربی مسجد شامل ہے۔ان اہم سنگ ہائے میل سے گزرنے کے بعد زائرین باب مکہ مکرمہ پہنچتے اور حج کے اس سفر کی یاد مناتے ہیں جسے کے راستوں پر چلتے ہوئے زائرین ماضی میں یہاں آیا کرتے اور مشاعرِ مقدسہ تک جایا کرتے تھے۔
یہ راستہ ثقافتی سیاحت کے ان راستوں میں سے ایک ہے جن کا مقصد ایک تاریخی یاد کو بحال کرنا ہے اور ثقافتی سیاحت کے نقشے پر ہسٹورک جدہ کی موجودگی کو تقویت دینا ہے۔یہ انشیٹیو سعودی وژن 2030 کے ان مقاصد سے مطابقت رکھتا ہے جن کے تحت یہاں آنے والوں کے سفر کے تجربات کو ناقابلِ فراموش بنانا ہے۔ اس کے علاوہ وزارتِ ثقافت کی تاریخی سائٹس کو محفوظ کرنے کی کوششوں کر بہتر بنانا اور انہیں دورِ حاضر کی روح کے مطابق لوگوں کے سامنے لانا بھی اسی انشیٹیو کا حصہ ہے۔









